حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ يَقُولُونَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ. وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ، وَيَقُولُونَ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ لاَ يُحَدِّثُونَ مِثْلَ أَحَادِيثِهِ وَإِنَّ إِخْوَتِي مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَانَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ، وَإِنَّ إِخْوَتِي مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ يَشْغَلُهُمْ عَمَلُ أَمْوَالِهِمْ، وَكُنْتُ امْرَأً مِسْكِينًا أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مِلْءِ بَطْنِي، فَأَحْضُرُ حِينَ يَغِيبُونَ وَأَعِي حِينَ يَنْسَوْنَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا " لَنْ يَبْسُطَ أَحَدٌ مِنْكُمْ ثَوْبَهُ حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي هَذِهِ، ثُمَّ يَجْمَعَهُ إِلَى صَدْرِهِ، فَيَنْسَى مِنْ مَقَالَتِي شَيْئًا أَبَدًا ". فَبَسَطْتُ نَمِرَةً لَيْسَ عَلَىَّ ثَوْبٌ غَيْرَهَا، حَتَّى قَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَقَالَتَهُ، ثُمَّ جَمَعْتُهَا إِلَى صَدْرِي، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا نَسِيتُ مِنْ مَقَالَتِهِ تِلْكَ إِلَى يَوْمِي هَذَا، وَاللَّهِ لَوْلاَ آيَتَانِ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا أَبَدًا {إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ} إِلَى قَوْلِهِ {الرَّحِيمُ}
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Hadrat Abu Huraira (may Allah be well pleased with him) who stated: People say that Hadrat Abu Huraira narrates too many hadith — yet the meeting with Allah awaits (how could I lie?). They also ask why the emigrants and the Ansar do not narrate as he does. The truth is that my emigrant brethren were occupied with trade in the markets, and my Ansar brethren were occupied with their properties. I was a poor man who kept the company of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) for the sake of filling my stomach. I would be present when they were absent, and I would remember what they forgot. One day the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) declared: 'Whoever among you spreads out his garment until I finish this discourse of mine, then gathers it to his chest, shall never forget anything of my discourse.' So I spread out my striped cloak — the only garment I had — until the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) finished his discourse, then gathered it to my chest. By Him Who sent him with the truth, I have not forgotten a single word of that discourse to this day. By Allah, were it not for two verses in the Book of Allah, I would never have narrated anything to you: 'Verily those who conceal the clear signs and the guidance which We have sent down...' up to '...the Merciful.'
اردو ترجمہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: لوگ کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ بہت زیادہ حدیثیں بیان کرتے ہیں، حالانکہ اللہ سے ملاقات ہونی ہے (میں جھوٹ کیسے بولوں)۔ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ مہاجرین اور انصار ان کی طرح حدیثیں کیوں بیان نہیں کرتے؟ بات یہ ہے کہ مہاجرین بھائیوں کو بازاروں میں تجارت مشغول رکھتی تھی اور انصار بھائیوں کو ان کی جائیداد (کھیت باغات) کی دیکھ بھال مشغول رکھتی تھی۔ میں ایک مسکین آدمی تھا، پیٹ بھرنے کی خاطر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں رہا کرتا تھا۔ جب وہ غیر حاضر ہوتے میں حاضر رہتا، اور جو وہ بھول جاتے میں یاد رکھتا۔ ایک دن نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جو بھی اپنا کپڑا پھیلائے رکھے جب تک میں اپنی یہ تقریر مکمل نہ کر لوں، پھر اسے اپنے سینے سے لگا لے، تو میری اس تقریر کی کوئی بات کبھی نہیں بھولے گا۔ میں نے اپنی دھاری دار چادر پھیلا دی، اس کے سوا میرے بدن پر کوئی کپڑا نہ تھا، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تقریر مکمل فرمائی، پھر میں نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! اس دن سے آج تک میں آپ کی اس تقریر کی کوئی بات نہیں بھولا۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ کی کتاب میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں تمہیں کبھی کوئی حدیث بیان نہ کرتا: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنٰتِ﴾ سے ﴿الرَّحِيْمُ﴾ تک۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (9)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحیح بخاری
إِنَّكُمْ تَقُولُونَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. وَتَقُولُونَ مَا بَالُ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ لاَ يُحَدِّثُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِم…
صحیح بخاری
إِنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ، إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مِسْكِينًا أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مِلْءِ …
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ يَقُولُونَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ. وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ، وَيَقُولُونَ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ لاَ يُحَدِّثُونَ مِثْلَ أَحَادِيثِهِ وَإِنَّ إِخْوَتِي مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَانَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ، وَإِنَّ إِخْوَتِي مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ يَشْغَلُهُمْ عَمَلُ أَمْوَالِهِمْ، وَكُنْتُ امْرَأً مِسْكِينًا أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مِلْءِ بَطْنِي، فَأَحْضُرُ حِينَ يَغِيبُونَ وَأَعِي حِينَ يَنْسَوْنَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا " لَنْ يَبْسُطَ أَحَدٌ مِنْكُمْ ثَوْبَهُ حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي هَذِهِ، ثُمَّ يَجْمَعَهُ إِلَى صَدْرِهِ، فَيَنْسَى مِنْ مَقَالَتِي شَيْئًا أَبَدًا ". فَبَسَطْتُ نَمِرَةً لَيْسَ عَلَىَّ ثَوْبٌ غَيْرَهَا، حَتَّى قَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَقَالَتَهُ، ثُمَّ جَمَعْتُهَا إِلَى صَدْرِي، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا نَسِيتُ مِنْ مَقَالَتِهِ تِلْكَ إِلَى يَوْمِي هَذَا، وَاللَّهِ لَوْلاَ آيَتَانِ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا أَبَدًا {إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ} إِلَى قَوْلِهِ {الرَّحِيمُ}
It is narrated from Hadrat Abu Huraira (may Allah be well pleased with him) who stated: People say that Hadrat Abu Huraira narrates too many hadith — yet the meeting with Allah awaits (how could I lie?). They also ask why the emigrants and the Ansar do not narrate as he does. The truth is that my emigrant brethren were occupied with trade in the markets, and my Ansar brethren were occupied with their properties. I was a poor man who kept the company of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) for the sake of filling my stomach. I would be present when they were absent, and I would remember what they forgot. One day the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) declared: 'Whoever among you spreads out his garment until I finish this discourse of mine, then gathers it to his chest, shall never forget anything of my discourse.' So I spread out my striped cloak — the only garment I had — until the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) finished his discourse, then gathered it to my chest. By Him Who sent him with the truth, I have not forgotten a single word of that discourse to this day. By Allah, were it not for two verses in the Book of Allah, I would never have narrated anything to you: 'Verily those who conceal the clear signs and the guidance which We have sent down...' up to '...the Merciful.'
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: لوگ کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ بہت زیادہ حدیثیں بیان کرتے ہیں، حالانکہ اللہ سے ملاقات ہونی ہے (میں جھوٹ کیسے بولوں)۔ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ مہاجرین اور انصار ان کی طرح حدیثیں کیوں بیان نہیں کرتے؟ بات یہ ہے کہ مہاجرین بھائیوں کو بازاروں میں تجارت مشغول رکھتی تھی اور انصار بھائیوں کو ان کی جائیداد (کھیت باغات) کی دیکھ بھال مشغول رکھتی تھی۔ میں ایک مسکین آدمی تھا، پیٹ بھرنے کی خاطر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں رہا کرتا تھا۔ جب وہ غیر حاضر ہوتے میں حاضر رہتا، اور جو وہ بھول جاتے میں یاد رکھتا۔ ایک دن نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جو بھی اپنا کپڑا پھیلائے رکھے جب تک میں اپنی یہ تقریر مکمل نہ کر لوں، پھر اسے اپنے سینے سے لگا لے، تو میری اس تقریر کی کوئی بات کبھی نہیں بھولے گا۔ میں نے اپنی دھاری دار چادر پھیلا دی، اس کے سوا میرے بدن پر کوئی کپڑا نہ تھا، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تقریر مکمل فرمائی، پھر میں نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! اس دن سے آج تک میں آپ کی اس تقریر کی کوئی بات نہیں بھولا۔ اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ کی کتاب میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں تمہیں کبھی کوئی حدیث بیان نہ کرتا: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنٰتِ﴾ سے ﴿الرَّحِيْمُ﴾ تک۔
إنكم تقولون إن أبا هُرَيرة يكثر الْحَدِيثَ عَن النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم وتقولون ما للمهاجرين والأنصار لا يحدثون عَن النَّبِيّ صَلَّى الله عَلَيه وَسَلَّم مثل حديث أبي هُرَيرة وإن إخواني من المهاجرين كان ي…