عربی (اصل)
حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ مَا مَعْنَى قَوْلِهِ " لاَ يَبِيعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ ". فَقَالَ لاَ يَكُنْ لَهُ سِمْسَارًا.
انگریزی ترجمہ
It is narrated from Tawus who states: I asked Hadrat Abdullah bin Abbas (may Allah be well pleased with them both): What does 'a city-dweller should not sell for a desert-dweller' mean? He said: He should not become his broker.
اردو ترجمہ
حضرت طاؤس سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا: «شہری دیہاتی کا مال نہ بیچے» کا کیا مطلب ہے؟ فرمایا: اس کا دلال نہ بنے۔
