عربی (اصل)
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ . قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ لاَ يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Ibn Tawus narrated from his father that Hadrat Ibn 'Abbas said: "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) forbade a city-dweller to sell for a Bedouin." (Sahih)I (Tawus) said to Hadrat Ibn 'Abbas: "What is meant by the words: 'A city-dweller selling for a Bedouin?' He said: "He should not be a broker for him
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے شہری کو دیہاتی کا مال بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا: آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قول: «حاضر لباد» کا کیا مفہوم ہے؟ تو انہوں نے کہا: بستی والا باہر والے کا دلال نہ بنے
