It is narrated by Hadrat Abu Bakrah (may Allah be well pleased with him) that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) delivered a sermon to us on the Day of Nahr. He stated, 'Do you know what day this is?' We submitted, 'Allah and His Messenger know best.' He remained silent until we thought he would give it another name. He stated, 'Is it not the Day of Nahr (sacrifice)?' We submitted, 'Indeed it is.' He then stated, 'What month is this?' We submitted, 'Allah and His Messenger know best.' He remained silent until we thought he would give it another name. He stated, 'Is it not the month of Dhul-Hijjah?' We submitted, 'Indeed it is.' He then stated, 'What town is this?' We submitted, 'Allah and His Messenger know best.' He remained silent until we thought he would give it another name. He stated, 'Is it not the Sacred Town?' We submitted, 'Indeed it is.' He then stated, 'Indeed, your blood and your properties are sacred to one another like the sanctity of this day of yours, in this month of yours, in this town of yours, till the day you meet your Lord. Say, have I conveyed Allah's Message to you?' They submitted, 'Yes.' He stated, 'O Allah! Be witness. Let those who are present convey (this message) to those who are absent, for many of those to whom it is conveyed may comprehend it better than those who heard it directly. And do not turn into disbelievers after me, striking the necks of one another.'
اردو ترجمہ
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے حضرت ابوعامر نے بیان کیا، ان سے قرۃ نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے فرمایا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ایک اور شخص نے جو میرے نزدیک عبدالرحمٰن سے بھی افضل ہیں یعنی حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دسویں تاریخ کو منیٰ میں خطبہ ارشاد فرمایا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگو! معلوم ہے آج یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس پر خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس دن کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں؟ ہم نے عرض کیا: ہاں ضرور ہے، پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ مہینہ کون سا ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس مرتبہ بھی خاموش ہو گئے اور ہمیں خیال ہوا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس مہینے کا نام کوئی اور نام رکھیں گے، لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ شہر کون سا ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس طرح خاموش ہو گئے کہ ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے، لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا یہ حرمت کا شہر نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں ضرور ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بس تمہارا خون اور تمہارے مال تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے، تاآنکہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ کہو کیا میں نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا؟ لوگوں نے عرض کیا: ہاں! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہنا، اور ہاں! یہاں موجود غائب کو پہنچا دیں کیونکہ بہت سے لوگ جن تک یہ پیغام پہنچے گا سننے والوں سے زیادہ (پیغام کو) یاد رکھنے والے ثابت ہوں گے، اور میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی (ناحق) گردنیں مارنے لگو۔
It is narrated by Hadrat Abu Bakrah (may Allah be well pleased with him) that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) delivered a sermon to us on the Day of Nahr. He stated, 'Do you know what day this is?' We submitted, 'Allah and His Messenger know best.' He remained silent until we thought he would give it another name. He stated, 'Is it not the Day of Nahr (sacrifice)?' We submitted, 'Indeed it is.' He then stated, 'What month is this?' We submitted, 'Allah and His Messenger know best.' He remained silent until we thought he would give it another name. He stated, 'Is it not the month of Dhul-Hijjah?' We submitted, 'Indeed it is.' He then stated, 'What town is this?' We submitted, 'Allah and His Messenger know best.' He remained silent until we thought he would give it another name. He stated, 'Is it not the Sacred Town?' We submitted, 'Indeed it is.' He then stated, 'Indeed, your blood and your properties are sacred to one another like the sanctity of this day of yours, in this month of yours, in this town of yours, till the day you meet your Lord. Say, have I conveyed Allah's Message to you?' They submitted, 'Yes.' He stated, 'O Allah! Be witness. Let those who are present convey (this message) to those who are absent, for many of those to whom it is conveyed may comprehend it better than those who heard it directly. And do not turn into disbelievers after me, striking the necks of one another.'
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے حضرت ابوعامر نے بیان کیا، ان سے قرۃ نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے فرمایا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ایک اور شخص نے جو میرے نزدیک عبدالرحمٰن سے بھی افضل ہیں یعنی حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دسویں تاریخ کو منیٰ میں خطبہ ارشاد فرمایا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگو! معلوم ہے آج یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس پر خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس دن کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں؟ ہم نے عرض کیا: ہاں ضرور ہے، پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ مہینہ کون سا ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس مرتبہ بھی خاموش ہو گئے اور ہمیں خیال ہوا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس مہینے کا نام کوئی اور نام رکھیں گے، لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ شہر کون سا ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس طرح خاموش ہو گئے کہ ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے، لیکن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا یہ حرمت کا شہر نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں ضرور ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بس تمہارا خون اور تمہارے مال تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے، تاآنکہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ کہو کیا میں نے تم کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا؟ لوگوں نے عرض کیا: ہاں! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہنا، اور ہاں! یہاں موجود غائب کو پہنچا دیں کیونکہ بہت سے لوگ جن تک یہ پیغام پہنچے گا سننے والوں سے زیادہ (پیغام کو) یاد رکھنے والے ثابت ہوں گے، اور میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی (ناحق) گردنیں مارنے لگو۔
وعن أبي بكرة نفيع بن الحارث رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إن الزمان قد استدار كهيئته يوم خلق الله السموات والأرض: السنة اثنا عشر شهرًا، منها أربعة حرم: ثلا…
وَعَنْ أَبِي بِكْرَةَ - رضى الله عنه - قَالَ: { خَطَبَنَا رَسُولُ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -يَوْمَ اَلنَّحْرِ... } اَلْحَدِيثَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ 1 .1 - صحيح. …