عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهم ـ لأَبِيهِ أَقِمْ، فَإِنِّي لاَ آمَنُهَا أَنْ سَتُصَدُّ عَنِ الْبَيْتِ. قَالَ إِذًا أَفْعَلَ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ قَالَ اللَّهُ {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} فَأَنَا أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عَلَى نَفْسِي الْعُمْرَةَ. فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، قَالَ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَقَالَ مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلاَّ وَاحِدٌ. ثُمَّ اشْتَرَى الْهَدْىَ مِنْ قُدَيْدٍ، ثُمَّ قَدِمَ فَطَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا، فَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى حَلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا.
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Nafi' (upon him be mercy) that 'Abdullah bin 'Abdullah bin 'Umar said to his father, 'Stay here, for I am afraid that it (affliction between Ibn al-Zubair and al-Hajjaj) might prevent you from reaching the Ka'ba.' Hadrat Ibn 'Umar (may Allah be well pleased with them both) stated, '(In this case) I would do the same as the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) did, and Allah has said: "Verily, in the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), you have a good example (to follow)." So, I make you people witness that I have made 'Umra compulsory for me.' So he assumed Ihram for 'Umra. Then he went out and when he reached al-Baida', he assumed Ihram for Hajj and 'Umra (together) and stated, 'The conditions (requisites) of Hajj and 'Umra are the same.' He then brought a Hadi from Qudaid. Then he arrived (at Makkah) and performed Tawaf (between Safa and Marwa) once for both Hajj and 'Umra and did not finish the Ihram till he had finished both Hajj and 'Umra.
اردو ترجمہ
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے بیان فرمایا کہ عبداللہ بن حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اپنے والد سے عرض کیا (جب وہ حج کے لیے تشریف لے جا رہے تھے) کہ آپ نہ تشریف لے جائیے کیوں کہ میرا خیال ہے کہ (بدامنی کی وجہ سے) آپ کو بیت اللہ تک تشریف لے جانے سے روک دیا جائے گا۔ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ پھر میں بھی وہی عمل کروں گا جو (ایسے موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ "تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے" میں اب تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ واجب فرما لیا ہے، چنانچہ آپ نے عمرہ کا احرام باندھا، انہوں نے بیان فرمایا کہ پھر آپ تشریف لے گئے اور جب بیداء تشریف لائے تو حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھ لیا اور ارشاد فرمایا کہ حج اور عمرہ دونوں تو ایک ہی ہیں، اس کے بعد قدید تشریف لا کر ہدی خریدی پھر مکہ تشریف لا کر دونوں کے لیے طواف فرمایا اور درمیان میں نہیں بلکہ دونوں سے ایک ہی ساتھ حلال ہوئے۔
