عربی (اصل)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ غُلاَمًا، مِنَ الْيَهُودِ كَانَ مَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُهُ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ " أَسْلِمْ " . فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ . فَأَسْلَمَ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَقُولُ " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ بِي مِنَ النَّارِ " .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) narrated that a young Jewish boy fell ill. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) came to visit him and sat by his head. He said to him: Accept Islam. The boy looked towards his father who was at his head, and his father said to him: Obey Abul-Qasim (blessings and peace of Allah be upon him). So he embraced Islam. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) then stood up saying: All praise is due to Allah Who has saved him through me from the Fire.
اردو ترجمہ
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی لڑکا بیمار ہوا تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس کی عیادت کے لیے تشریف لائے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے، پھر اس سے ارشاد فرمایا: اسلام قبول کر لو۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے سرہانے موجود تھا، تو اس کے باپ نے اس سے کہا: ابوالقاسم (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو۔ چنانچہ وہ مسلمان ہو گیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم یہ فرماتے ہوئے اٹھے: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اسے میرے ذریعے آگ سے نجات عطا فرمائی۔
