عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يُحَدِّثُ قَالَ جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الرُّمَاةِ يَوْمَ أُحُدٍ - وَكَانُوا خَمْسِينَ رَجُلاً - عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ وَقَالَ " إِنْ رَأَيْتُمُونَا تَخَطَّفُنَا الطَّيْرُ فَلاَ تَبْرَحُوا مِنْ مَكَانِكُمْ هَذَا حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ وَإِنْ رَأَيْتُمُونَا هَزَمْنَا الْقَوْمَ وَأَوْطَأْنَاهُمْ فَلاَ تَبْرَحُوا حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ " . قَالَ فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ . قَالَ فَأَنَا وَاللَّهِ رَأَيْتُ النِّسَاءَ يَشْتَدِدْنَ عَلَى الْجَبَلِ فَقَالَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرٍ الْغَنِيمَةَ أَىْ قَوْمِ الْغَنِيمَةَ ظَهَرَ أَصْحَابُكُمْ فَمَا تَنْتَظِرُونَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جُبَيْرٍ أَنَسِيتُمْ مَا قَالَ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا وَاللَّهِ لَنَأْتِيَنَّ النَّاسَ فَلَنُصِيبَنَّ مِنَ الْغَنِيمَةِ فَأَتَوْهُمْ فَصُرِفَتْ وُجُوهُهُمْ وَأَقْبَلُوا مُنْهَزِمِينَ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat al-Bara' (may Allah be well pleased with him) narrated: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) appointed Abdullah ibn Jubayr (may Allah be well pleased with him) over the archers on the Day of Uhud — they were fifty men — and stated: "Even if you see birds snatching us away, do not leave your position until I send word to you. And even if you see that we have defeated the enemy and trampled them, do not leave until I send word to you." He said: Then Allah defeated them. He said: By Allah, I saw the women running up the mountain. The companions of Abdullah ibn Jubayr said: The spoils! O people, the spoils! Your companions have prevailed — what are you waiting for? Abdullah ibn Jubayr said: Have you forgotten what the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) told you? They said: By Allah, we shall certainly go to the people and get some of the spoils! So they went, but their faces were turned back (in defeat) and they returned routed.
اردو ترجمہ
حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اُحد کے دن تیر اندازوں پر — جو پچاس آدمی تھے — عبداللہ بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مقرر فرمایا اور ارشاد فرمایا: "اگر تم دیکھو کہ پرندے ہمیں اچک رہے ہیں تب بھی اپنی اس جگہ سے نہ ہٹنا جب تک میں تمہارے پاس پیغام نہ بھیجوں، اور اگر تم دیکھو کہ ہم نے دشمن کو شکست دے دی اور انہیں روند ڈالا تب بھی اس وقت تک نہ ہٹنا جب تک میں تمہیں پیغام نہ بھیجوں۔" فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں (مشرکین کو) شکست دی۔ فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے عورتوں کو پہاڑ پر دوڑتے دیکھا۔ عبداللہ بن جبیر کے ساتھیوں نے کہا: غنیمت! اے لوگو غنیمت! تمہارے ساتھی غالب آ گئے، تم کس کا انتظار کر رہے ہو؟ عبداللہ بن جبیر نے کہا: کیا تم بھول گئے جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تم سے فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم لوگوں کے پاس ضرور جائیں گے اور غنیمت سے حصہ لیں گے۔ پس وہ گئے تو ان کے چہرے پھیر دیے گئے اور وہ شکست کھا کر لوٹے۔
