عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ، - يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ - يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خُدَّامَ أَنْفُسِنَا نَتَنَاوَبُ الرِّعَايَةَ رِعَايَةَ إِبِلِنَا فَكَانَتْ عَلَىَّ رِعَايَةُ الإِبِلِ فَرَوَّحْتُهَا بِالْعَشِيِّ فَأَدْرَكْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ النَّاسَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُومُ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ يُقْبِلُ عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ إِلاَّ قَدْ أَوْجَبَ " . فَقُلْتُ بَخْ بَخْ مَا أَجْوَدَ هَذِهِ . فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَيْنِ يَدَىَّ الَّتِي قَبْلَهَا يَا عُقْبَةُ أَجْوَدُ مِنْهَا . فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ مَا هِيَ يَا أَبَا حَفْصٍ قَالَ إِنَّهُ قَالَ آنِفًا قَبْلَ أَنْ تَجِيءَ " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَقُولُ حِينَ يَفْرُغُ مِنْ وُضُوئِهِ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ إِلاَّ فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةُ يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ " . قَالَ مُعَاوِيَةُ وَحَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Uqbah ibn Amir (may Allah be well pleased with him) narrates: We used to serve ourselves while in the company of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), tending our camels by turns. One day it was my turn to tend the camels. When I drove them back in the evening, I found the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) addressing the people. I heard him (blessings and peace of Allah be upon him) state: 'Whoever among you performs ablution, and performs it well, then stands and offers two rak'ahs of prayer with complete attentiveness of heart and body — Paradise becomes obligatory for him.' I said (to myself): 'How excellent this is!' A man sitting in front of me said: 'O Uqbah, what he (blessings and peace of Allah be upon him) said before this was even more excellent.' I looked and it was Hadrat Umar ibn al-Khattab (may Allah be well pleased with him). I asked: 'O Abu Hafs, what was it?' He said: 'Just before you arrived, he (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Whoever among you performs ablution well, and then upon completing his ablution says: I bear witness that there is no deity except Allah alone, without partner, and I bear witness that Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) is His servant and His Messenger — the eight gates of Paradise will be opened for him, and he may enter through whichever he wishes.' Hadrat Mu'awiyah (ibn Salih) says: Rabi'ah ibn Yazid narrated this to me from Abu Idris, from Uqbah ibn Amir (may Allah be well pleased with him).
اردو ترجمہ
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اپنے کام خود کرتے تھے اور باری باری اپنے اونٹ چراتے تھے۔ ایک دن اونٹ چرانے کی میری باری تھی، شام کو میں نے انہیں واپس لایا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں سے خطاب فرماتے پایا۔ میں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا: تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر کھڑا ہو کر دو رکعت نماز پوری توجہ اور حضورِ قلب کے ساتھ ادا کرے تو اس نے (اپنے اوپر جنت) واجب کر لی۔ میں نے (دل میں) کہا: واہ واہ! یہ کتنی اچھی (بشارت) ہے! اتنے میں میرے سامنے بیٹھے ایک شخص نے کہا: اے عقبہ! جو بات آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پہلے ارشاد فرمائی وہ اس سے بھی بہتر تھی۔ میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ میں نے عرض کیا: ابوحفص! وہ کیا تھی؟ فرمایا: ابھی تمہارے آنے سے پہلے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جو شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر وضو سے فارغ ہونے کے بعد یہ الفاظ کہے: «أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدًا عبده ورسوله» (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں) — تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جائیں گے، وہ جس سے چاہے داخل ہو۔ حضرت معاویہ (بن صالح) فرماتے ہیں: مجھ سے ربیعہ بن یزید نے بیان کیا ہے، انہوں نے ابوادریس سے، انہوں نے عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے۔
