Arabic (Original)
نا نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُضَيْفٍ الْكِنْدِيِّ، أَتَىعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِوَعَلَيْهِ قَبَاءٌ، وَخُفَّانِ رَقِيقَانِ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ عُمَرُ، وَقَالَ:" مَا هَذَا؟" فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ،أَمَّا الْقَبَاءُ فَإِنَّ الرَّجُلَ يَشُدُّهُ عَلَيْهِ فَيَضُمُّ ثِيَابَهُ، وَأَمَّا الْخِفَافُ الرِّقَاقُ أَثْبَتُ فِي الرُّكَبِ فَقَالَ:" نَعَمْ"، فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ.
English Translation
Ibrahim (may Allah have mercy on him) narrated 'Umar's letter to the judges about justice and fairness.
Urdu Translation
عیاض بن غطیف کندی سے روایت ہے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ پر باریک موزے اور قبا پہننے پر اعتراض کیا۔ میں نے کہا:”قبا کپڑے سنبھالنے کے لیے ہے اور باریک موزے گھٹنے مضبوط کرتے ہیں۔“تو آپ نے اجازت دے دی۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 4102]
