Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ كَانَتْ جَارِيَتَانِ تَخْرُزَانِ بِالطَّائِفِ فَخَرَجَتْ إِحْدَاهُمَا وَيَدُهَا تَدْمَى فَزَعَمَتْ أَنَّ صَاحِبَتَهَا أَصَابَتْهَا وَأَنْكَرَتِ الأُخْرَى فَكَتَبْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي ذَلِكَ فَكَتَبَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى أَنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ وَلَوْ أَنَّ النَّاسَ أُعْطُوا بِدَعْوَاهُمْ لاَدَّعَى نَاسٌ أَمْوَالَ نَاسٍ وَدِمَاءَهُمْ فَادْعُهَا وَاتْلُ عَلَيْهَا هَذِهِ الآيَةَ { إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً أُولَئِكَ لاَ خَلاَقَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ } حَتَّى خَتَمَ الآيَةَ فَدَعَوْتُهَا فَتَلَوْتُ عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ بِذَلِكَ فَسَرَّهُ .
English Translation
It was narrated from Nafi' bin 'Umar, that Ibn Abi Mulaikah said: "There were two female neighbors who used to do leatherwork (with an awl) in At-Ta'if. One of them came out with her hand bleeding and claimed that her companion had injured her, but the other one denied it. I wrote to Hadrat Ibn 'Abbas concerning that. He wrote, (saying) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) [SAW] ruled that the person against whom the claim was made should swear an oath. For if people were to be given what they claimed was theirs, then people would make claims against the wealth and blood of others." So he called her and recited this Verse to her: "Verily, those who purchase a small gain at the cost of Allah's Covenant and their oaths, they shall have no portion in the Hereafter..." until the end of the Verse. He called her and recited that to her, and she confessed to that. News of that reached him and he was happy
Urdu Translation
ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں: طائف میں دو لونڈیاں چمڑے کی سلائی کرتی تھیں، ان میں سے ایک خون بہتے ہاتھ کے ساتھ باہر نکلی اور دعویٰ کیا کہ اس کی ساتھی نے اسے زخمی کیا ہے، اور دوسری نے انکار کیا۔ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو اس بارے میں خط لکھا۔ انہوں نے جواب لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ قسم مدعا علیہ (جس پر دعویٰ ہو) پر ہے، اور اگر لوگوں کو ان کے دعووں کی بنیاد پر دے دیا جائے تو لوگ دوسروں کے مال اور خون کا دعویٰ کرنے لگیں۔ اسے بلاؤ اور اس پر یہ آیت پڑھو: بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں، یہاں تک کہ آیت پوری ہوئی۔ میں نے اسے بلایا اور اس پر یہ آیت پڑھی تو اس نے اعتراف کر لیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو یہ خبر خوش کن لگی۔
