Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمَّيْهِ، سَلَمَةَ وَيَعْلَى ابْنَىْ أُمَيَّةَ قَالاَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَمَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا فَقَاتَلَ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَعَضَّ الرَّجُلُ ذِرَاعَهُ فَجَذَبَهَا مِنْ فِيهِ فَطَرَحَ ثَنِيَّتَهُ فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَلْتَمِسُ الْعَقْلَ فَقَالَ " يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ فَيَعَضُّهُ كَعَضِيضِ الْفَحْلِ ثُمَّ يَأْتِي يَطْلُبُ الْعَقْلَ لاَ عَقْلَ لَهَا " . فَأَبْطَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
English Translation
It is narrated from Hadrat Safwan bin Hadrat 'Abdullah (may Allah be well pleased with him) that his two paternal uncles, Salamah and Ya'la, the sons of Umayyah, said: "We went out with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) on the campaign of Tabuk, and there was a friend of ours with us, who fought with a man from among the Muslims. The man bit him on the forearm, so he pulled it away from his mouth and a tooth fell out. The man came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), seeking blood money, but his brother and bite him like a stallion bites, then come and demand blood money? There is no blood money for that." And the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) juddgedit to be invalid
Urdu Translation
حضرت صفوان بن عبد اللہ اپنے دونوں چچا حضرت سلمہ اور حضرت یعلیٰ ابنائے امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوۂ تبوک میں نکلے، ہمارے ساتھ ہمارا ایک ساتھی تھا، اس نے ایک مسلمان سے لڑائی کی، اس شخص نے اس کا بازو کاٹا، اس نے بازو اس کے منہ سے کھینچا تو اس کا اگلا دانت گر گیا۔ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دیت مانگنے آیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے پاس جاتا ہے اور اسے سانڈ کی طرح کاٹتا ہے، پھر آ کر دیت مانگتا ہے؟ اس کی کوئی دیت نہیں ہے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے باطل قرار دیا۔
