Arabic (Original)
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقِّي. وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا موسى بن الحسن بن عبَّاد؛ قالا: حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا زهير بن محمد، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن محمد بن جُبَير بن مُطعِم، عن أبيه: أنَّ رجلًا أتى النبيَّ ﷺ فقال: يا رسول الله، أيُّ البُلدان شرٌّ؟ قال:"لا أدري"، فلمَّا أتاه جبريل قال:"يا جبريل، أيُّ البلدان شرٌّ؟ قال: لا أدري، حتى أسألَ ربي، فانطلق جبريل، فمَكَثَ ما شاءَ اللهُ أن يَمكُثَ، ثم جاء فقال: يا محمد، إنك سألتَني: أيُّ البلادِ شرٌّ؟ وإني قلت: لا أدري، وإني سألتُ ربي فقلت: أيُّ البلادِ شرٌّ؟ فقال: أسواقُها"(2). قد احتجَّا جميعًا برواة هذا الحديث إلّا عبدَ الله بن محمد بن عَقِيل، وقد تفرَّد البخاري بالاحتجاج بأبي حُذَيفة، وهذا الحديث أصلٌ في قول العالم: لا أدري. وله شاهد عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 303 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
English Translation
Jubayr ibn Mut'im narrated that a man came to the Prophet (peace be upon him) and asked: "O Messenger of Allah, which places are the worst?" He said: "I do not know." When Jibril came to him, he asked: "O Jibril, which places are the worst?" He said: "I do not know, until I ask my Lord." So Jibril departed and remained as long as Allah willed, then he came back and said: "O Muhammad, you asked me which places are the worst and I said I do not know. Then I asked my Lord: Which places are the worst? And He said: 'Their marketplaces.'" Al-Hakim said: This hadith is a foundational proof for a scholar saying "I do not know."
Urdu Translation
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! شہروں میں سے کون سا حصہ بدترین ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”مجھے معلوم نہیں“، پھر جب جبریل علیہ السلام تشریف لائے تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پوچھا:”اے جبریل! مقامات میں سے کون سا حصہ بدترین ہے؟“انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں یہاں تک کہ میں اپنے رب سے پوچھ لوں؛ جبریل علیہ السلام چلے گئے اور جتنا اللہ نے چاہا وہاں ٹھہرے رہے، پھر واپس آ کر عرض کیا: اے محمد! آپ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ بدترین مقامات کون سے ہیں اور میں نے کہا تھا کہ مجھے علم نہیں، پھر میں نے اپنے رب سے پوچھا کہ بدترین مقامات کون سے ہیں؟ تو اللہ نے فرمایا:”وہاں کے بازار۔“شیخین نے عبداللہ بن محمد بن عقیل کے علاوہ اس حدیث کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، جبکہ امام بخاری نے تنہا ابو حذیفہ سے احتجاج کیا ہے، اور یہ حدیث ایک عالم کے لیے”مجھے معلوم نہیں“کہنے کے معاملے میں ایک اصل (دلیل) ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 307]
