Arabic (Original)
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا علي بن المديني، حدثنا سفيان، حدثنا أيوب بن عائذ الطائيُّ، عن قيس بن مسلم، عن طارق بن شهاب قال: خرج عمرُ بن الخطّاب إلى الشام ومعنا أبو عبيدة بن الجرَّاح، فأَتَوْا على مَخَاضةٍ وعمرُ على ناقة له، فنزل عنها وخَلَعَ خُفَّيهِ فوضعهما على عاتقِه، وأخذ بزمام ناقته فخاض بها المخاضة، فقال أبو عبيدة: يا أمير المؤمنين، أأنت تفعل هذا، أتخلَعُ خُفَّيكَ وتضعُهما على عاتقك وتأخذُ بزمام ناقتك، وتخوض بها المخاضة؟! ما يَسرُّني أنَّ أهل البلد استَشرَفُوك، فقال عمر: أوَّه، لو يقولُ(1)ذا غيرُك أبا عُبيدة، جعلتُه نَكَالًا لأُمة محمدٍ ﷺ، إنا كنا أذلَّ قومٍ فأعزَّنا الله بالإسلام، فمهما نطلبُ العزَّ بغير ما أعزَّنا اللهُ به، أذلَّنا الله(2).هذا حديث صحيح على شرط الشيخين لاحتجاجهما جميعًا بأيوب بن عائذٍ الطائي وسائر رواته، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ من حديث الأعمش عن قيس بن مسلم:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 207 - على شرطهما
English Translation
Tariq ibn Shihab narrated: Umar ibn al-Khattab set out for Syria, and Abu Ubaydah ibn al-Jarrah was with us. They came upon a ford, and Umar was riding his she-camel. He dismounted, took off his leather socks and placed them on his shoulder, took his camel by the halter and waded into the water. Abu Ubaydah said: "O Commander of the Faithful! Are you doing this — taking off your socks, putting them on your shoulder, leading your camel by the halter, and wading through the water?! I would not be pleased if the people of the town came out to see you like this." Umar said: "If anyone other than you had said this, O Abu Ubaydah, I would have made an example of him. We were the most humiliated of people, and Allah honored us through Islam. If we seek honor through anything other than that by which Allah honored us, Allah will humiliate us."
Urdu Translation
طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام کی طرف روانہ ہوئے اور ہمارے ساتھ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بھی تھے، پس جب وہ ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں سے پانی گزر رہا تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنی اونٹنی پر سوار تھے، تو وہ سواری سے نیچے اترے، اپنے دونوں موزے اتارے اور انہیں اپنے کندھے پر رکھ لیا، پھر اپنی اونٹنی کی لگام تھام کر اسے پانی میں سے گزارنے لگے، تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے (حیرت سے) عرض کیا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ ایسا کر رہے ہیں کہ اپنے موزے اتار کر کندھے پر رکھ لیے ہیں، اونٹنی کی لگام خود تھامی ہے اور اسے پانی میں سے گزار رہے ہیں؟ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ اس شہر کے لوگ آپ کو اس حال میں دیکھیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:”افسوس! اے ابوعبیدہ، کاش یہ بات تمہارے علاوہ کسی اور نے کہی ہوتی، میں اسے امتِ محمدیہصلی اللہ علیہ وسلمکے لیے عبرت بنا دیتا، حقیقت یہ ہے کہ ہم سب سے ذلیل قوم تھے تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کے ذریعے عزت عطا فرمائی، پس جب کبھی بھی ہم اس راستے کے علاوہ کسی اور چیز میں عزت تلاش کریں گے جس کے ذریعے اللہ نے ہمیں عزت دی ہے، تو اللہ ہمیں (دوبارہ) ذلیل و خوار کر دے گا۔“یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ ان دونوں نے ایوب بن عائذ طائی اور دیگر تمام راویوں سے استدلال کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اعمش کی حدیث سے قیس بن مسلم کے واسطے سے اس کا ایک شاہد (تائیدی روایت) بھی موجود ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 208]
