Arabic (Original)
وَرُوِيَ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» : أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ وَتَوَسَّدَ رِدَاءَهُ فَجَاءَ سَارِقٌ وَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَأَخَذَهُ صَفْوَانُ فَجَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ أَنْ تُقْطَعَ يَدُهُ فَقَالَ صَفْوَانُ: إِنِّي لَمْ أُرِدْ هَذَا هُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَهَلا قبل أَن تَأتِينِي بِهِ» وَرَوَى نَحْوَهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بن صَفْوَان عَن أَبِيه والدارمي عَن ابْن عَبَّاس
English Translation
It is transmitted in Sharh as-sunna that Safwan b. Umayya came to Medina and slept in the mosque, using his cloak as a pillow. A thief came and took his cloak and Safwan seized him and brought him to God’s Messenger who ordered that his hand should be cut off. Safwan then said, "This was not my intention. I give it to him as sadaqa.” God’s Messenger replied, "Why did you not do so before bringing him to me?” Ibn Majah transmitted something similar on the authority of ‘Abdallah b. Safwan who quoted his father’s authority, and Darimi did so also on the authority of Ibn ‘Abbas.
Urdu Translation
شرح السنۃ میں روایت ہے کہ حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ آئے اور مسجد میں سو گئے اور اپنی چادر کو تکیہ بنایا۔ ایک چور آیا اور ان کی چادر لے لی۔ صفوان نے اسے پکڑ لیا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آئے۔ آپ نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ حضرت صفوان نے عرض کیا: میرا یہ ارادہ نہیں تھا، یہ چادر اس پر صدقہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ بات میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ کی؟ ابن ماجہ نے اسی طرح عبد اللہ بن صفوان سے ان کے والد کے حوالے سے، اور دارمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا۔
