Arabic (Original)
636 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: لَمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَسَمَ فِي النَّاسِ فِي الْمُؤَلَّفَةِ قَلُوبُهُمْ وَلَمْ يُعْطِ الأَنْصَارَ شَيْئًا؛ فَكَأَنَّهُمْ وَجَدُوا، إِذْ لَمْ يُصِبْهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ، فَخَطَبَهُمْ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلاَّلاً فَهَدَاكُمُ اللهُ بِي، وَكُنْتُمْ مُتَفَرِّقِينَ فَأَلَّفَكُمُ اللهُ بِي، وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ الله بِي كلَّمَا قَالَ شَيْئًا، قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ؛ قَالَ: مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تُجِيبُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، كُلَّمَا قَالَ شَيْئًا، قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ قَالَ: لَوْ شِئتُمْ قُلْتُمْ: جِئْتَنَا كَذَا وَكَذَا، أَتَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ وَتَذْهَبُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رِحَالِكُمْ لَوْلاَ الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرءًا مِنَ الأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَشِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الأَنْصَارِ وَشِعْبَهَا، الأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ، إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ
English Translation
Narrated Abdullah ibn Zayd ibn Asim: When Allah gave His Messenger the spoils at Hunayn, the Prophet distributed them among those whose hearts needed to be reconciled and did not give the Ansar anything. They seemed to feel hurt. The Prophet (peace be upon him) said to them: "O people of the Ansar, did I not find you astray and Allah guided you through me? You were scattered and Allah united you through me. You were poor and Allah enriched you through me." Every time he said something, they said: "Allah and His Messenger have shown more favor." He said: "What prevents you from answering the Messenger of Allah?" They said: "Allah and His Messenger have shown more favor." He said: "If you wished, you could say: 'You came to us in such-and-such a state.' Are you not pleased that the people take the sheep and camels and you return with the Messenger of Allah? By the One in whose hand is Muhammad's soul, were it not for the Hijrah, I would have been a man of the Ansar. If the people took a valley and the Ansar took a mountain pass, I would take the mountain pass of the Ansar."
Urdu Translation
سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جو غنیمت دی تھی آپ نے اس کی تقسیم کمزور ایمان کے لوگوں میں (جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے) کر دی اور انصار کو اس میں سے کچھ نہیں دیا، اس کا انہیں کچھ ملال ہوا کہ وہ مال جو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے دوسروں کو دیا ہمیں کیوں نہیں دیا، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس کے بعد انہیں خطاب کیا اور فرمایا:”اے انصاریو! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا؟ پھر تم کو میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب کی اور تم میں آپس میں دشمنی اور نا اتفاقی تھی تو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ تم میں باہم الفت پیدا کی اور تم محتاج تھے، اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ غنی کیا“، آپ کے ایک ایک جملے پر انصار کہتے جاتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وسلمکے ہم سب سے زیادہ احسان مند ہیں، نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میری باتوں کا جواب دینے سے تمہیں کون سی چیز مانع رہی؟“بیان کیا کہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکے ہر ارشاد پر انصار عرض کرتے جاتے کہ اللہ اور اس کے رسول کے ہم سب سے زیادہ احسان مند ہیں، پھر نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اگر تم چاہتے ہو تو مجھ سے اس اس طرح بھی کہہ سکتے تھے (کہ آپ آئے تو لوگ آپ کو جھٹلا رہے تھے لیکن ہم نے آپ کی تصدیق کی وغیرہ) کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جب لوگ اونٹ اور بکریاں لے جا رہے ہوں گے تو تم اپنے گھروں کی طرف رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو ساتھ لئے جا رہے ہو گے؟ اگر ہجرت کی فضیلت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک آدمی بن جاتا، لوگ خواہ کسی گھاٹی یا وادی میں چلیں میں تو انصار کی وادی اور گھاٹی میں چلوں گا، انصار اس کپڑے کی طرح ہیں یعنی استر جو ہمیشہ جسم سے لگا رہتا ہے اور دوسرے لوگ اوپر کے کپڑے کی طرح ہیں یعنی تم لوگ (انصار) دیکھو گے کہ میرے بعد تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی، تم ایسے وقت میں صبر کرنا یہاں تک کہ مجھے حوض پر آ ملو۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 636]
