Arabic (Original)
635 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ الْتَقَى هَوَازِنُ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةُ آلاَفٍ وَالطُّلَقَاءُ فَأَدْبَرُوا قَالَ: يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ قَالُوا: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ لَبَّيْكَ، نَحْنُ بَيْنَ يَدَيْكَ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَنَا عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ، فَأَعْطَى الطُّلَقَاءَ وَالْمُهَاجِرِينَ وَلَمْ يُعْطِ الأَنْصَارَ شَيْئًا فَقَالُوا؛ فَدَعَاهُمْ فَأَدْخَلَهُمْ فِي قُبَّةٍ، فَقَالَ: أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الأَنْصَارُ شِعْبًا لاَخْتَرْتُ شِعْبَ الأَنْصَارِ
English Translation
Narrated Anas: On the day of Hunayn, Hawazin, Ghatafan, and others came with their cattle and families. The Prophet had ten thousand men and the freed captives (of Mecca). They fled from him, but he called them: "O Ansar!" They said: "Here we are, O Messenger of Allah!" The Prophet then stood in his stirrup and said: "I am the servant of Allah and His Messenger." The enemy was defeated. The Prophet (peace be upon him) then distributed the spoils among the freed captives and the Muhajirun and did not give the Ansar anything. The Ansar spoke about it, and the Prophet gathered them and said: "Are you not pleased that the people take the sheep and camels while you take the Messenger of Allah to your homes?" They said: "We are pleased." The Prophet (peace be upon him) said: "If the people took a valley and the Ansar took a mountain pass, I would take the mountain pass of the Ansar."
Urdu Translation
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حنین میں جب قبیلہ ہوازن سے جنگ شروع ہوئی تو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ دس ہزار فوج تھی، قریش کے وہ لوگ بھی ساتھ تھے جنہیں فتح مکہ کے بعد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے چھوڑ دیا تھا، پھر سب نے پیٹھ پھیر لی، نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے پکارا:”اے انصاریو!“انہوں نے جواب دیا کہ ہم حاضر ہیں یا رسول اللہ! آپ کے ہر حکم کی تعمیل کے لیے ہم حاضر ہیں، ہم آپ کے سامنے ہیں، پھر نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلماپنی سواری سے اتر گئے اور فرمایا:”میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں“، پھر مشرکین کو شکست ہو گئی، جن لوگوں کو نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فتح مکہ کے بعد چھوڑ دیا تھا اور مہاجرین کو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے دیا لیکن انصار کو کچھ نہیں دیا، اس پر انصار نے اپنے غم کا اظہار کیا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے بلایا اور ایک خیمہ میں جمع کیا، پھر فرمایا:”کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ دوسرے لوگ بکری اور اونٹ اپنے ساتھ لے جائیں اور تم رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو اپنے ساتھ لے جاؤ؟“رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار دوسری گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی گھاٹی میں چلنا پسند کروں گا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الزكاة/حدیث: 635]
