Arabic (Original)
16 صحيح حديث المُسَيَّبِ بْنِ حَزْنٍ قَالَ: لَمّا حَضَرَتْ أَبا طَالِبٍ الْوَفاةُ جاءَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ عِنْدَهُ أَبا جَهْلِ بْنَ هِشامٍ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ أَبي أُمَيَّةَ بْنِ المُغِيرَة، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأبي طالِبٍ يا عَمِّ قُلْ لا إِلهَ إِلاّ اللهَ كَلِمَةَ أَشْهَدُ لَكَ بِها عِنْدَ اللهِ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ وَعَبْدُ اللهِ بْنِ أَبي أُمَيَّةَ يا أَبا طَالِبٍ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ المُطَّلِب فَلَمْ يَزَل رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِضُها عَلَيْهِ، وَيَعُودَانِ بِتِلْكَ المَقالَةِ حَتّى قَالَ أَبو طَالِبٍ، آخِرَ ما كَلَّمَهُمْ، هُوَ عَلى مِلَّة عَبْدِ المُطَّلِبِ، وَأَبى أَنْ يَقُولَ لا إِلهَ إِلاّ الله، فَقالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمّا وَاللهِ لأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ ما لَمْ أُنْهَ عَنْكَ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعالى فِيهِ(مَا كانَ لِلنَّبِي)الآية
English Translation
Al-Musayyab ibn Hazn (may Allah be pleased with him) said: When Abu Talib was on his deathbed, the Messenger of Allah (peace be upon him) came to him and found Abu Jahl ibn Hisham and Abdullah ibn Abi Umayyah ibn al-Mughirah with him. The Messenger of Allah (peace be upon him) said to Abu Talib: "O uncle, say La ilaha illallah, a word by which I can testify for you before Allah." Abu Jahl and Abdullah ibn Abi Umayyah said: "O Abu Talib, will you abandon the religion of Abdul-Muttalib?" The Messenger of Allah (peace be upon him) kept offering it to him, and they kept repeating their statement, until Abu Talib's last words were that he was upon the religion of Abdul-Muttalib, and he refused to say La ilaha illallah. The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "By Allah, I will surely seek forgiveness for you as long as I am not forbidden from doing so." Then Allah the Exalted revealed concerning him: "It is not for the Prophet..." (9:113).
Urdu Translation
سیدنا مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمان کے پاس تشریف لائے، دیکھا تو ان کے پاس اس وقت ابوجہل بن ہشام اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ موجود تھے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ابوطالب سے فرمایا:”چچا! آپ ایک کلمہ«لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ»”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“کہہ دیجیے تاکہ میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کلمہ کی وجہ سے آپ کے حق میں گواہی دے سکوں۔“اس پر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا: ابوطالب! کیا تم اپنے باپ عبدالمطلب کے دین سے پھر جاؤ گے؟ رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلمبرابر کلمہ اسلام ان پر پیش کرتے رہے، ابوجہل اور ابن ابی امیہ بھی اپنی بات دہراتے رہے، آخر ابوطالب کی آخری بات یہ تھی کہ وہ عبدالمطلب کے دین پر ہیں، انہوں نے«لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ»”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“کہنے سے انکار کر دیا۔ پھر بھی رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں آپ کے لیے استغفار کرتا رہوں گا تاآنکہ مجھے منع نہ کر دیا جائے۔“اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:﴿نبی کو اور ایمان داروں کو یہ لائق ہی نہیں کہ مشرکوں کے لیے استغفار کریں گو وہ قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں اس کے بعد کہ ان پر یہ ظاہر ہو چکا ہے کہ وہ دوزخی ہیں﴾[سورة التوبة: 113]۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 16]
