Arabic (Original)
1331 صحيح حديث عَبْدِ الرَّحْمنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاَثِينَ وَمِائَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ فَعُجِنَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْعًا أَمْ عَطِيَّةً أَوْ قَالَ: أَمْ هِبَةً قَالَ: لاَ، بَلْ بَيْعٌ فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً، فَصُنِعَتْ، وَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ يُشْوَى، وَايْمُ اللهِ مَا فِي الثَّلاثِينَ وَالْمِائَةِ إِلاَّ قَدْ حَزَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ حُزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا، إِنْ كَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ، وَإِنْ كَانَ غَائِبًا خَبَأَ لَهُ، فَجَعَلَ مِنْهَا قَصْعَتَيْنِ فَأَكَلُوا أَجْمَعُونَ، وَشَبِعْنَا فَفَضَلَتِ الْقَصْعَتَانِ فَحَمَلْنَاهُ عَلَى الْبَعِيرِ أو كَمَا قَالَ
English Translation
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that a man asked the Prophet (peace be upon him) about wine. He disliked it, then the man asked: "Can I use it as medicine?" He said: "No, it is a disease, not a cure."
Urdu Translation
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم ایک سو تیس آدمی رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ (ایک سفر میں) تھے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کیا کسی کے پاس کھانے کی بھی کوئی چیز ہے؟“ایک صحابی کے ساتھ تقریباً ایک صاع آٹا تھا۔ وہ آٹا گوندھا گیا، پھر ایک لمبا تڑنگا مشرک پریشان بال بکریاں ہانکتا ہوا آیا۔ تو نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے دریافت فرمایا:”یہ بیچنے کے لیے ہیں یا کسی کا عطیہ ہے؟“یا آپ نے عطیہ کے بجائے ہبہ کہا۔ اس نے کہا کہ نہیں، بیچنے کے لیے ہیں۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس سے ایک بکری خریدی۔ پھر وہ ذبح کی گئی، پھر نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے اس کی کلیجی بھوننے کے لیے کہا۔ قسم خدا کی! ایک سو تیس اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے ہر ایک کو اس کلیجی میں سے کاٹ کے دیا، جو موجود تھے انہیں تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فوراً ہی دے دیا اور جو اس وقت موجود نہیں تھے ان کا حصہ محفوظ رکھ لیا، پھر بکری کے گوشت کو دو بڑی قابوں میں رکھا گیا اور سب نے خوب سیر ہو کر کھایا۔ جو کچھ قابوں میں بچ گیا تھا اسے اونٹ پر رکھ کر ہم واپس لائے (راوی کہتا ہے) یا جس طرح سیدنا نے فرمایا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1331]
