Arabic (Original)
1306 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رضي الله عنه، قَالَ: ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنَ الْعَرَبِ، فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ السَّاعِدِيَّ أَنْ يُرْسِلَ إِلَيْهَا؛ فأَرْسَلَ إِلَيْهَا، فَقَدِمَتْ، فَنَزَلَتْ فِي أُجُمِ بَنِي سَاعِدَةَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَاءَهَا، فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَإِذَا امْرَأَةٌ مُنَكِّسَةٌ رَأْسَهَا فَلَمَّا كَلَّمَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ، فَقَالَ: قَدْ أَعَذْتُكِ مِنِّي فَقَالُوا لَهَا: أَتَدْرِينَ مَنْ هذَا قَالَتْ: لاَ قَالُوا: هذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ لِيَخْطُبَكِ قَالَتْ: كُنْتُ أَنَا أَشْقَى مِنْ ذَلِكَ فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، حَتَّى جَلَسَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ، هُوَ وَأَصْحَابُهُ، ثُمَّ قَالَ: اسْقِنَا يَا سَهْلُ فَخَرَجْتُ لَهُمْ بِهذَا الْقَدَحِ، فَأَسْقَيْتُهُمْ فِيه(قَالَ الرَّاوِي)فَأَخْرَجَ لَنَا سَهْلٌ ذَلِكَ الْقَدَحَ فَشَرِبْنَا مِنْهُ قَالَ: ثُمَّ اسْتَوْهَبَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، بَعْدَ ذَلِكَ، فَوَهَبَهُ لَهُ
English Translation
Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) used to breathe three times while drinking (i.e., he would remove the vessel from his mouth to breathe, then resume drinking).
Urdu Translation
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے ایک عرب عورت کا ذکر کیا گیا، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمنے سیدنا ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس انہیں لانے کے لیے کسی کو بھیجنے کا حکم دیا، چنانچہ انہوں نے کسی کو بھیجا اور وہ آئیں اور بنی ساعدہ کے قلعہ میں اتریں، پھر آپصلی اللہ علیہ وسلمبھی تشریف لائے اور ان کے پاس گئے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے دیکھا کہ ایک عورت سر جھکائے بیٹھی ہے، جب آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے ان سے گفتگو کی تو وہ کہنے لگیں:«أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْكَ»”میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔“رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اس پر فرمایا:«لَقَدْ عُذْتِ بِمَعَاذٍ»”میں نے تجھ کو پناہ دی۔“لوگوں نے بعد میں ان سے پوچھا: کیا تمہیں معلوم بھی ہے کہ یہ کون تھے؟ اس عورت نے جواب دیا کہ نہیں، لوگوں نے کہا: یہ تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمتھے، وہ تم سے نکاح کے لیے تشریف لائے تھے، اس پر وہ بولیں کہ پھر تو میں بڑی بدبخت ہوں (کہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلمکو ناراض کر کے واپس کر دیا)۔ اسی دن حضور اکرمصلی اللہ علیہ وسلمتشریف لائے اور سقیفہ بنی ساعدہ میں اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھے، پھر فرمایا:”سہل! پانی پلاؤ۔“میں نے ان کے لیے یہ پیالہ نکالا اور انہیں اس میں پانی پلایا۔ (راویِ حدیث نے کہا:) سیدنا سہل رضی اللہ عنہ ہمارے لیے بھی وہی پیالہ نکال کر لائے اور ہم نے بھی اس میں پانی پیا، راوی نے بیان کیا کہ پھر بعد میں خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ان سے یہ پیالہ مانگ لیا تھا اور انہوں نے یہ ان کو ہبہ کر دیا تھا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الأشربة/حدیث: 1306]
