Arabic (Original)
1168 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: كُنَّا بِصِفِّينَ، فَقَامَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ، فَإِنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الحُدَيْبِيَةِ وَلَوْ نَرَى قِتَالاً لَقَاتَلْنَا، فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ فَقَالَ: بَلَى فَقَالَ: أَلَيْسَ قَتْلاَنَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلاَهُمْ فِي النَّارِ قَالَ: بَلَى قَالَ: فَعَلَى مَا نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا أَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَقَالَ: ابْنَ الْخطَّابِ إِنِّي رَسُولُ اللهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي الله أَبَدًا فَانْطَلَقَ عُمَرُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ فَقَالَ: إِنَّهُ رَسُولُ اللهِ وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللهُ أَبَدًا فَنَزَلَتْ سُورَةُ الْفَتْحِ، فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُمَرَ إِلَى آخِرِهَا فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَو فَتْحٌ هُوَ قَالَ: نَعَمْ
English Translation
Narrated Sahl ibn Hunayf, from Abu Wa'il, who said: We were at Siffin when Sahl ibn Hunayf stood up and said: "O people, examine yourselves. We were with the Messenger of Allah (peace be upon him) on the day of al-Hudaybiyyah, and had we seen an opportunity to fight, we would have fought. Then Umar ibn al-Khattab came and said: 'O Messenger of Allah, are we not upon the truth and they upon falsehood?' He said: 'Indeed.' Umar said: 'Are not our slain in Paradise and their slain in the Fire?' He said: 'Indeed.' Umar said: 'Then why do we accept humiliation in our religion? Shall we return without Allah judging between us and them?' The Prophet (peace be upon him) said: 'O son of al-Khattab, I am the Messenger of Allah, and Allah will never abandon me.' Umar went to Abu Bakr and said the same to him as he had said to the Prophet (peace be upon him). Abu Bakr said: 'He is the Messenger of Allah, and Allah will never abandon him.' Then Surah al-Fath was revealed."
Urdu Translation
سیدنا ابو وائل رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ہم مقام صفین میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے، پھر سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! تم خود اپنی رائے کو غلط سمجھو، ہم صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ تھے، اگر ہمیں لڑنا ہوتا تو اس وقت ضرور لڑتے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس موقع پر آئے (یعنی حدیبیہ میں) اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں؟ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کیوں نہیں!“سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے؟ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کیوں نہیں!“پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم اپنے دین کے معاملے میں پھر کیوں دبیں؟ کیا ہم (مدینہ) واپس چلے جائیں گے اور ہمارے اور ان کے درمیان اللہ کوئی فیصلہ نہیں کرے گا؟ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ابن خطاب! میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ مجھے کبھی برباد نہیں کرے گا۔“اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے وہی سوالات کیے جو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے ابھی کر چکے تھے، انہوں نے بھی یہی کہا کہ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلماللہ کے رسول ہیں اور اللہ انہیں کبھی برباد نہیں ہونے دے گا۔ پھر سورۂ فتح نازل ہوئی اور آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اسے آخر تک پڑھ کر سنایا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا یہی فتح ہے؟ آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ہاں! بلا شک یہی فتح ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجهاد/حدیث: 1168]
