Arabic (Original)
1104 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ الْيَهُودَ جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا لَهُ أَنَّ رَجُلاً مِنْهُمْ وَامْرَأَةً زَنَيَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ فِي شَأْنِ الرَّجْمِ فَقَالُوا: نَفْضَحُهُمْ وَيُجْلَدُونَ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلاَمٍ: كَذَبْتُمْ إِنَّ فِيهَا الرَّجْمَ فَأَتَوْا بِالتَّوْرَاةِ فَنَشَرُوهَا، فَوَضَعَ أَحَدُهُمْ يَدَهُ عَلَى آيَةِ الرَّجْمِ، فَقَرَأَ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا؛ فَقَالَ لَه عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلاَمٍ: ارْفَعْ يَدكَ فَرَفَعَ يَدَهُ، فَإِذَا فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ فَقَالُوا: صَدَقَ يَا مُحَمَّدُ فِيهَا آيَةُ الرَّجْمِ فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُجِمَا قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: فَرَأَيْتُ الرَّجُلَ يَجْنَأُ عَلَى الْمَرْأَةِ، يَقِيهَا الْحِجَارَةَ
English Translation
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that a man from the tribe of Aslam came to the Prophet (peace be upon him) and confessed to fornication. The Prophet turned away from him until the man testified against himself four times. The Prophet asked him: "Are you mad?" He said: "No." He asked: "Are you married?" He said: "Yes." So the Prophet ordered that he be stoned, and he was stoned at the musalla (prayer ground). When the stones struck him, he fled, but he was caught and stoned until he died. The Prophet spoke well of him and prayed over him.
Urdu Translation
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ یہود، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو بتایا کہ ان کے یہاں ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا ہے۔ آپ نے ان سے فرمایا:”رجم کے بارے میں تورات میں کیا حکم ہے؟“وہ بولے: یہ کہ ہم انہیں رسوا کریں اور انہیں کوڑے لگائے جائیں۔ اس پر سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ جھوٹے ہو، تورات میں رجم کا حکم موجود ہے، تورات لاؤ۔ پھر یہودی تورات لائے اور اسے کھولا لیکن رجم سے متعلق جو آیت تھی اسے ایک یہودی نے اپنے ہاتھ سے چھپا لیا اور اس سے پہلے اور اس کے بعد کی عبارت پڑھنے لگا۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ذرا اپنا ہاتھ تو اٹھاؤ، جب اس نے ہاتھ اٹھایا تو وہاں آیتِ رجم موجود تھی۔ اب وہ سب کہنے لگے کہ اے محمد! عبداللہ بن سلام نے سچ کہا، بے شک تورات میں رجم کی آیت موجود ہے۔ چنانچہ آپصلی اللہ علیہ وسلمکے حکم سے ان دونوں کو رجم کیا گیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رجم کے وقت دیکھا، یہودی مرد اس عورت پر جھکا پڑتا تھا، اس کو پتھروں کی مار سے بچاتا تھا۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحدود/حدیث: 1104]
