Arabic (Original)
عَنْهِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْأَبِيهِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ بَرِيرَةُ، فَقَالَتْ: إِنِّي كَاتَبَنِي أَهْلِي عَلَى تِسْعِ أَوَاقٍ، فِي كُلِّ عَامٍ أُوقِيَّةٌ فَأَعِينِينِي، فَقَالَتْ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَعُدَّهَا لَهُمْ عِدَّةً وَاحِدَةً وَيَكُونُ وَلاؤُكِ لِي فَعَلْتُ، فَذَهَبَتْ إِلَى أَهْلِهَا فَأَبَوْا ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَجَاءَتْ إِلَى عَائِشَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي عَرَضْتُ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا إِلا أَنْ يَكُونَ الْوَلاءُ لَهُمْ، فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَسَأَلَ عَائِشَةَ، فَأَخْبَرَتْهُ، فَقَالَ:" خُذِيهَا فَأَعْتِقِيهَا وَاشْتَرِطِي لَهُمُ الْوَلاءَ، فَإِنَّ الْوَلاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ"، فَفَعَلَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَمَّا بَعْدُ، فَمَا بَالُ رِجَالٍ مِنْكُمْ يَشتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ، كِتَابُ اللَّهِ أَحَقُّ، وَشَرْطُ اللَّهِ أَوْثَقُ، فَمَا بَالُ أَحَدُكُمْ يَقُولُ: أَعْتِقْ فُلانًا وَلِيَ الْوَلاءُ، إِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ".
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Do you know who the bankrupt person is?" They said: "The bankrupt among us is the one who has no money and no possessions." He said: "The bankrupt from my Ummah is the one who comes on the Day of Resurrection with prayer, fasting, and charity, but comes having cursed this one, slandered that one, consumed the wealth of this one, shed the blood of that one, and struck this one. So this one will be given from his good deeds, and that one will be given from his good deeds. If his good deeds run out before the matter is settled, some of their sins will be taken and thrown upon him, and then he will be cast into the Fire."
Urdu Translation
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ بریرہ آئی اور کہا: بے شک میرے آقاؤں نے مجھ سے سات اوقیوں پر مکاتبت (لکھ پڑت) کر لی ہے، ہر سال ایک اوقیہ (چالیس درہم) دینا ہے، لہٰذا میری مدد کریں۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر تیرے آقا پسند کریں کہ میں انہیں یک بارگی ساری رقم گن کر دے دوں، تو میں دے دیتی ہوں، لیکن تیرا”ولاء“میرا ہوگا۔ وہ اپنے آقاؤں کے پاس گئی تو انہوں نے اس پر اس کا انکار کر دیا، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمان کے پاس تھے اور کہا: بے شک میں نے ان پر پیش کیا، پھر انہوں نے انکار کر دیا، الا یہ کہ”ولاء“انہیں کا ہوگا۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے یہ سنا تو عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: انہوں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکو (سارا ماجرا) بتایا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تو اسے لے اور آزاد کر دے اور ان کے لیے”ولاء“کی شرط لگا دے، بے شک”ولاء“اس کا ہے جس نے آزاد کیا،“سو عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا، پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمپچھلے پہر لوگوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا:”اما بعد! تم میں سے ان مردوں کی کیا حالت ہے، جو ایسی شرطیں عائد کرتے ہیں، جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں، جو کوئی بھی ایسی شرط ہوئی جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہے، وہ باطل ہے۔ اگرچہ وہ سو شرطیں ہوں، اللہ کا فیصلہ زیادہ حق والا ہے اور اللہ کی شرط زیادہ مضبوط ہے۔ پس کیا حالت ہے تمہارے ایک کی جو کہتا ہوتا ہے کہ اس نے آزاد کیا اور”ولاء“میرا ہی ہے۔”ولاء“صرف اس کا ہے جس نے آزاد کیا۔“[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 238]
