Arabic (Original)
أناأَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنِالشَّعْبِيِّ، عَنِالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: سَأَلَتْ أُمِّي أَبِي بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ لِي مِنْ مَالِهِ، فَالْتَوَى بِهَا سَنَةً، ثُمَّ بَدَا لَهُ فَوَهَبَهَا لِي، وَأَنَّهَا قَالَتْ: لا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا وَهَبْتَ لابْنِي، فَأَخَذَ بِيَدِي وَأَنَا يَومَئذٍ غُلامٌ، فَأَتَى بِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ أُمَّ هَذَا بِنْتَ رَوَاحَةَ قَاتَلَتْنِي مُنْذُ سَنَةٍ عَلَى بَعْضِ الْمَوْهِبَةِ لابْنِي هَذَا، وَقَدْ بَدَا لِي فَوَهَبْتُهَا لَهُ، وَقَدْ أَعْجَبَهَا أَنْ تُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ:" يَا بَشِيرُ،أَلَكَ وَلَدٌ سِوَى هَذَا؟"، قَالَ: نَعَمْ، فَأُرَاهُ قَالَ:" لا، لا تُشْهِدْنِي عَلَى هَذَا".
English Translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "There are two expressions which are light on the tongue, heavy on the scale, and beloved to the Most Merciful: 'Subhan Allahi wa bihamdihi' and 'Subhan Allahil-Azim.'"
Urdu Translation
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میری والدہ نے میرے والد سے، اس کے مال میں سے، میرے لیے بعض تحفے کا سوال کیا، اس نے ایک سال تک اسے ملتوی رکھا، پھر اس کے لیے مجھے تحفہ دینا ظاہر ہوا اور بے شک اس (میری ماں) نے کہا، میں راضی نہیں ہوں گی، یہاں تک کہ تو اس پر جو میرے بیٹے کو تحفہ دو، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو گواہ بنا لو، تو اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں ان دنوں بچہ تھا اور مجھے نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس لے آیا اور کہا: اے اللہ کے نبیصلی اللہ علیہ وسلم! بے شک اس کی ماں، رواحہ کی بیٹی، مجھے ایک سال سے اپنے اس بیٹے کو بعض تحفہ دینے پر اصرار کر رہی تھی اور اب میرے لیے اسے تحفہ دینا ظاہر ہوا ہے اور اے اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم! یقیناً اسے لگا ہے کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمکو گواہ بنائے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اے بشیر! کیا تیری اس کے علاوہ بھی اولاد ہے؟“کہا کہ ہاں، میرا خیال ہے آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”مجھے اس پر گواہ نہ بنا۔“[مسند عبدالله بن مبارك/حدیث: 212]
