Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ أَبِي جَمِيلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَتِ امْرَأَةٌ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَتْ بِأَبِي وَأُمِّي إِنِّي ابْتَعْتُ أَنَا وَابْنِي مِنْ فُلَانٍ ثَمَرَ مَالِهِ فَأَحْصَيْنَاهُ لَا وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِمَا أَكْرَمَكَ بِهِ مَا أَحْصَيْنَا مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا شَيْئًا نَأْكُلُهُ فِي بُطُونِنَا أَوْ نُطْعِمُ مِسْكِينًا رَجَاءَ الْبَرَكَةِ وَجِئْنَا نَسْتَوْضِعُهُ مَا نَقَصْنَا فَحَلَفَ بِاللَّهِ لَا يَضَعُ لَنَا شَيْئًا فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ ﷺ «تَأَلَّى لَا يَصْنَعُ خَيْرًا» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَتْ فَبَلَغَ ذَلِكَ صَاحِبَ الثَّمَرِ فَقَالَ بِأَبِي وَأُمِّي إِنْ شِئْتَ وَضَعْتُ مَا نَقَصُوا وَإِنْ شِئْتَ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ فَوَضَعَ مَا نَقَصُوا
English Translation
Umm al-Mu'minin Hadrat A'ishah (may Allah be well pleased with her) narrated: A woman came to the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and said: "May my father and mother be sacrificed for you! I and my son purchased the fruits of so-and-so's property. We kept a careful account of it - by the One Who honored you with what He honored you - we took nothing from it except what we ate or fed to the poor, hoping for blessing. We came to ask him to reduce what was missing, but he swore by Allah he would not reduce anything for us." The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "He has sworn not to do good" - three times. When the owner of the fruits heard this, he came and said: "May my father and mother be sacrificed for you! If you wish, I will waive what they lost, or if you wish, from the principal." So he waived what they had lost.
Urdu Translation
اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا: «میرے ماں باپ آپ پر قربان! میں نے اور میرے بیٹے نے فلاں کے مال کے پھل خریدے تھے۔ ہم نے اس کا حساب رکھا - اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت بخشی - ہم نے اس سے کچھ نہیں لیا سوائے اس کے جو ہم نے کھایا یا مسکین کو کھلایا برکت کی امید میں۔ ہم اس سے کمی معاف کرانے آئے تو اس نے قسم کھائی کہ ہمارا کچھ نہیں چھوڑے گا۔» تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اس نے قسم کھائی کہ بھلائی نہیں کرے گا» - تین بار فرمایا۔ جب پھلوں کے مالک کو یہ بات پہنچی تو آیا اور عرض کیا: «میرے ماں باپ قربان! اگر آپ چاہیں تو جو کم ہوا معاف کر دوں اور اگر چاہیں تو اصل سے۔» تو اس نے جو کم ہوا تھا معاف کر دیا۔
