Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ كَانَ سُلَيْمَانُ نَبِيُّ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ رَأَى شَجَرَةً نَابِتَةً بَيْنَ يَدَيْهِ فَيَقُولُ مَا اسْمُكِ؟ فَتَقُولُ كَذَا فَيَقُولُ لِأَيِّ شَيْءٍ أَنْتِ؟ فَتَقُولُ لِكَذَا وَكَذَا فَإِنْ كَانَتْ لِدَوَاءٍ كَتَبَ وَإِنْ كَانَتْ لِغَرْسٍ غُرِسَتْ فَبَيْنَمَا هُوَ يُصَلِّي يَوْمًا إِذْ رَأَى شَجَرَةً نَابِتَةً بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ لَهَا مَا اسْمُكِ؟ قَالَتْ الْخَرْنُوبُ قَالَ لِأَيِّ شَيْءٍ أَنْتِ؟ قَالَتْ لِخَرَابِ هَذَا الْبَيْتِ قَالَ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ اللَّهُمَّ عَمِّ عَلَى الْجِنِّ مَوْتِي حَتَّى يَعْلَمَ الْإِنْسُ أَنَّ الْجِنَّ لَا تَعْلَمُ الْغَيْبَ قَالَ فَنَحَتَهَا عَصًا فَتَوَكَّأَ عَلَيْهَا قَالَ فَأَكَلَتْهَا الْأَرَضَةُ فَسَقَطَ فَخَرَّ فَوَجَدُوهُ مَيِّتًا حَوْلًا فَتَبَيَّنَتِ الْإِنْسُ أَنَّ الْجِنَّ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا حَوْلًا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ «وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَؤُهَا هَكَذَا فَشَكَرَتِ الْجِنُّ الْأَرَضَةَ فَكَانَتْ تَأْتِيهَا بِالْمَاءِ حَيْثُ كَانَتْ»
English Translation
Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) narrated from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) who said: Sulayman (peace be upon him), the Prophet of Allah, whenever he stood in his place of prayer, would see a tree growing before him and would ask: "What is your name?" It would say: "Such and such." He would ask: "What are you for?" It would say: "For such and such." If it was for medicine, he would record it, and if it was for planting, it would be planted. One day while he was praying, he saw a tree growing before him and asked it: "What is your name?" It said: "The carob tree." He asked: "What are you for?" It said: "For the destruction of this house (the temple)." Sulayman (peace be upon him) prayed: "O Allah, conceal my death from the jinn so that mankind may know that the jinn do not know the unseen." So he carved it into a staff and leaned upon it. Then the termites ate it and he fell down. They found he had been dead for a year, and thus mankind realized that had the jinn known the unseen, they would not have remained in humiliating punishment for a year. Ibn Abbas used to recite the verse this way: "So the jinn were grateful to the termites, and they would bring them water wherever they were."
Urdu Translation
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سلیمان علیہ السلام اللہ کے نبی جب اپنی نماز کی جگہ کھڑے ہوتے تو ان کے سامنے ایک درخت اگا ہوا دیکھتے اور پوچھتے: تیرا نام کیا ہے؟ وہ کہتا: فلاں۔ پوچھتے: تو کس کام کے لیے ہے؟ وہ کہتا: فلاں فلاں کام کے لیے۔ اگر وہ دوا کے لیے ہوتا تو لکھ لیتے اور اگر بونے کے لیے ہوتا تو بو دیا جاتا۔ ایک دن جب آپ نماز پڑھ رہے تھے تو سامنے ایک درخت اگا ہوا دیکھا اور اس سے پوچھا: تیرا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: خرنوب۔ پوچھا: تو کس لیے ہے؟ کہا: اس گھر (بیت المقدس) کی تباہی کے لیے۔ سلیمان علیہ السلام نے دعا کی: اے اللہ! میری موت جنوں سے پوشیدہ رکھ تاکہ انسان جان لیں کہ جن غیب نہیں جانتے۔ پھر اس درخت کو تراش کر عصا بنایا اور اس پر ٹیک لگائی۔ پھر دیمک نے اسے کھا لیا اور آپ گر پڑے۔ ایک سال بعد معلوم ہوا کہ وہ فوت ہو چکے ہیں۔ تو انسانوں کو یقین ہو گیا کہ اگر جن غیب جانتے تو ایک سال تک ذلت کے عذاب میں نہ رہتے۔ حضرت ابن عباس اس آیت کو یوں پڑھتے تھے: پس جنوں نے دیمک کا شکریہ ادا کیا اور وہ جہاں بھی ہوتیں انہیں پانی لا کر دیتے تھے۔
