Arabic (Original)
فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْخُزَاعِيُّ بِمَكَّةَ ثَنَا جَدِّي ثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ قَالَ «كَانَ الْعَبَّاسُ أَسَنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِثَلَاثِ سِنِينَ» أُتِيَ إِلَى أُمِّي فَقِيلَ لَهَا وَلَدَتْ آمِنَةُ غُلَامًا فَخَرَجَتْ بِي حِينَ أَصْبَحْتُ آخِذَةً بِيَدِي حَتَّى دَخَلْنَا عَلَيْهَا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَمْصَعُ رِجْل��يْهِ فِي عَرْصَتِهِ وَجَعَلَ النِّسَاءُ يُحَدِّثْنَنِي وَيَقُلْنَ قَبِّلْ أَخَاكَ قَالَ وَمَاتَ الْعَبَّاسُ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَثَلَاثِينَ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَثَمَانِينَ سَنَةً «كَانَ الْعَبَّاسُ أَسَنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِثَلَاثِ سِنِينَ» أُتِيَ إِلَى أُمِّي فَقِيلَ لَهَا وَلَدَتْ آمِنَةُ غُلَامًا فَخَرَجَتْ بِي حِينَ أَصْبَحْتُ آخِذَةً بِيَدِي حَتَّى دَخَلْنَا عَلَيْهَا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَمْصَعُ رِجْلَيْهِ فِي عَرْصَتِهِ وَجَعَلَ النِّسَاءُ يُحَدِّثْنَنِي وَيَقُلْنَ قَبِّلْ أَخَاكَ قَالَ وَمَاتَ الْعَبَّاسُ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَثَلَاثِينَ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَثَمَانِينَ سَنَةً
English Translation
Abdullah ibn Muhammad ibn Ishaq al-Khuza'i informed me in Makkah, my grandfather narrated to us, al-Zubayr ibn Bakkar narrated to us who said: "Hadrat al-Abbas (may Allah be well pleased with him) was three years older than the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)." (He narrated:) Someone came to my mother and said: 'Amina has given birth to a boy.' She went out with me in the morning, holding my hand, until we entered upon her. I can still picture him kicking his legs in his crib. The women kept talking to me and saying: 'Kiss your brother.' He said: And Hadrat al-Abbas (may Allah be well pleased with him) died in the year thirty-four Hijri at the age of eighty-eight.
Urdu Translation
عبد اللہ بن محمد بن اسحاق خزاعی نے مکہ میں مجھے خبر دی، میرے دادا نے ہمیں بیان کیا، زبیر بن بکار نے ہمیں بیان کیا، فرمایا: «حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے تین سال بڑے تھے۔» (فرمایا:) میری والدہ کے پاس آیا گیا اور کہا: آمنہ نے ایک لڑکے کو جنم دیا ہے۔ تو وہ صبح ہوتے ہی میرا ہاتھ پکڑ کر نکلیں یہاں تک کہ ہم ان کے پاس داخل ہوئے۔ گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنے جھولے میں پاؤں مار رہے تھے۔ عورتیں مجھ سے باتیں کرتیں اور کہتیں: اپنے بھائی کو چومو۔ فرمایا: اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سنہ چونتیس ہجری میں وفات پاگئے اور ان کی عمر اٹھاسی سال تھی۔
