Arabic (Original)
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمُ الْقَاضِي ثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ غُشِيَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي وَجَعِهِ غَشْيَةً فَظَنُّوا أَنَّهَا قَدْ فَاضَتْ نَفْسُهُ فِيهَا حَتَّى قَامُوا مِنْ عِنْدِهِ وَجَلَّلُوهُ ثَوْبًا وَخَرَجَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ امْرَأَتُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ تَسْتَعِينُ فِيمَا أُمِرَتْ بِهِ مِنَ الصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ فَلَبِثُوا سَاعَةً وَهُوَ فِي غَشِيَّةٍ ثُمَّ أَفَاقَ فَكَانَ أَوَّلَ مَا تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ كَبِّرْ فَكَبَّرَ أَهْلُ الْبَيْتِ وَمَنْ يَلِيهِمْ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ «غُشِيَ عَلَيَّ آنِفًا؟» فَقَالُوا نَعَمْ فَقَالَ «صَدَقْتُمْ» فَقَالَ إِنَّهُ انْطَلَقَ بِي فِي غَشِيَّتِي رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا فِيهِ شِدَّةٌ وَفَظَاظَةٌ فَقَالَا انْطَلِقْ نُحَاكِمْكَ إِلَى الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ فَقَالَ «أَرْجِعَاهُ فَإِنَّهُ مِنَ الَّذِينَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُمُ السَّعَادَةَ وَالْمَغْفِرَةَ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِهِمْ وَأَنَّهُ سَيَتَمَتَّعُ بِهِ بَنَوْهُ إِلَى مَا شَاءَ اللَّهُ» فَعَاشَ بَعْدَ ذَلِكَ شَهْرًا ثُمَّ تُوُفِّيَ وَأَقَامَ الْحَجَّ فِيهَا عُثْمَانُ عنه الذهبي في التلخيص أَنَّهَا قَدْ فَاضَتْ نَفْسُهُ فِيهَا حَتَّى قَامُوا مِنْ عِنْدِهِ وَجَلَّلُوهُ ثَوْبًا وَخَرَجَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ امْرَأَتُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ تَسْتَعِينُ فِيمَا أُمِرَتْ بِهِ مِنَ الصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ فَلَبِثُوا سَاعَةً وَهُوَ فِي غَشِيَّةٍ ثُمَّ أَفَاقَ فَكَانَ أَوَّلَ مَا تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ كَبِّرْ فَكَبَّرَ أَهْلُ الْبَيْتِ وَمَنْ يَلِيهِمْ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ «غُشِيَ عَلَيَّ آنِفًا؟» فَقَالُوا نَعَمْ فَقَالَ «صَدَقْتُمْ» فَقَالَ إِنَّهُ انْطَلَقَ بِي فِي غَشِيَّتِي رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا فِيهِ شِدَّةٌ وَفَظَاظَةٌ فَقَالَا انْطَلِقْ نُحَاكِمْكَ إِلَى الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ فَقَالَ «أَرْجِعَاهُ فَإِنَّهُ مِنَ الَّذِينَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُمُ السَّعَادَةَ وَالْمَغْفِرَةَ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِهِمْ وَأَنَّهُ سَيَتَمَتَّعُ بِهِ بَنَوْهُ إِلَى مَا شَاءَ اللَّهُ» فَعَاشَ بَعْدَ ذَلِكَ شَهْرًا ثُمَّ تُوُفِّيَ وَأَقَامَ الْحَجَّ فِيهَا عُثْمَانُ عنه الذهبي في التلخيص
English Translation
Ahmad ibn Kamil al-Qadi informed me, Muhammad ibn al-Haytham al-Qadi narrated to us, Abu al-Yaman narrated, Shu'ayb informed us from al-Zuhri, Ibrahim ibn Abd al-Rahman ibn Awf narrated to me that Abd al-Rahman ibn Awf fainted during his illness with such a fainting spell that they thought his soul had departed. They stood up from beside him and covered him with a cloth. His wife Umm Kulthum bint Uqba went out to the mosque to seek help through patience and prayer as she had been commanded. They remained for a while and he was in his faint, then he revived. The first thing he spoke was to say takbir, so the people of the house and those nearby said takbir. Then he said to them: 'Did I faint just now?' They said: 'Yes.' He said: 'You speak the truth.' He said: 'During my faint, two men took me away - one of them had severity and harshness. They said: Come, we will bring you before the Mighty, the All-Knowing.' Then (a voice) said: 'Return him, for he is among those for whom Allah has written happiness and forgiveness while they were in their mothers' wombs, and his sons shall enjoy him for as long as Allah wills.' He lived for a month after that, then he passed away. And Hadrat Uthman (may Allah be well pleased with him) led the Hajj that year.
Urdu Translation
احمد بن کامل قاضی نے مجھے خبر دی، محمد بن الہیثم قاضی نے ہمیں بیان کیا، ابو الیمان نے بیان کیا، شعیب نے ہمیں خبر دی زہری سے، ابراہیم بن عبد الرحمان بن عوف نے مجھے بیان کیا کہ عبد الرحمان بن عوف اپنی بیماری میں ایسی غشی میں گئے کہ لوگوں نے سمجھا ان کی روح نکل چکی ہے۔ وہ ان کے پاس سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ان پر کپڑا ڈال دیا۔ ان کی بیوی ام کلثوم بنت عقبہ مسجد کی طرف نکلیں تاکہ صبر اور نماز سے مدد حاصل کریں جیسا کہ انہیں حکم دیا گیا تھا۔ وہ کچھ دیر رکے رہے اور وہ غشی میں تھے، پھر ہوش آیا۔ سب سے پہلے جو بات کہی وہ تکبیر تھی، تو اہل خانہ اور آس پاس والوں نے تکبیر کہی۔ پھر فرمایا: کیا ابھی مجھے غشی آئی تھی؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ فرمایا: تم نے سچ کہا۔ فرمایا: میری غشی میں دو آدمیوں نے مجھے لے جایا، ایک میں سختی اور درشتی تھی۔ انہوں نے کہا: چلو، ہم تمہیں عزیز علیم کے سامنے لے چلتے ہیں۔ تو (آواز آئی): اسے واپس کرو، یہ ان لوگوں میں سے ہے جن کے لیے اللہ نے ان کی ماؤں کے پیٹوں میں سعادت اور مغفرت لکھ دی ہے اور اس کے بیٹے جب تک اللہ چاہے اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ اس کے بعد ایک ماہ زندہ رہے پھر وفات پاگئے۔ اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سال حج کروایا۔
