Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ السَّهْمِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ كُلْثُومِ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي الْقَبْرِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى بِسْمِ اللَّهِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ» فَلَمَّا بُنِيَ عَلَيْهَا لَحْدُهَا طَفِقَ يَطْرَحُ إِلَيْهِمُ الْحُبُوبَ وَيَقُولُ «سُدُّوا خِلَالَ اللَّبِنِ» ثُمَّ قَالَ «أَمَا هَذَا لَيْسَ بِشَيْءٍ وَلَكِنَّهُ يَطِيبُ بِنَفْسِ الْحَيِّ» لم يتكلم عليه وهو خبر واه لأن علي بن يزيد متروك
English Translation
Hadrat Abu Umamah (may Allah be well pleased with him) narrated: When Umm Kulthum, the daughter of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), was placed in her grave, the Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'From it We created you, and into it We shall return you, and from it We shall bring you out once more. In the name of Allah and in the cause of Allah and upon the way of the Messenger of Allah.' When her grave was built with bricks, he began throwing pebbles to them and saying: 'Fill in the gaps between the bricks.' Then he said: 'This does not benefit or harm anything, but it soothes the heart of the living.' However, Ali ibn Yazid (a narrator) is abandoned.
Urdu Translation
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: جب حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی اُمّ کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو قبر میں رکھا گیا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: 'اسی سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے۔ اللہ کے نام سے اور اللہ کی راہ میں اور رسول اللہ کے دین پر۔' جب ان کی لحد اینٹوں سے بنائی گئی تو آپ ان کی طرف کنکریاں پھینکنے لگے اور فرماتے: 'اینٹوں کے درمیان خلا بند کرو۔' پھر فرمایا: 'یہ کوئی نفع نقصان نہیں دیتا لیکن زندے کے دل کو سکون دیتا ہے۔' تاہم علی بن یزید (ایک راوی) متروک ہے۔
