Arabic (Original)
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْخُرَاسَانِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ جَمِيلٍ ثنا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَكُنْتُ جَالِسًا عِنْدَهُ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ إِنَّ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ قَاتَلَ أَهْلَ مَدِينَةٍ حَتَّى إِذَا كَادَ أَنْ يَفْتَتِحَهَا خَشِيَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَالَ لَهَا أَيَّتُهَا الشَّمْسُ إِنَّكِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ بِحُرْمَتِي عَلَيْكِ إِلَّا رَكَدْتِ سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ قَالَ فَحَبَسَهَا اللَّهُ حَتَّى افْتَتَحَهَا وَكَانُوا إِذَا أَصَابُوا الْغَنَائِمَ قَرَّبُوهَا فِي الْقُرْبَانِ فَجَاءَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهَا فَلَمَّا أَصَابُوا وَضَعُوا الْقُرْبَانَ فَلَمْ تَجِئِ النَّارُ تَأْكُلْهُ فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا لَنَا لَا يُقْبَلُ قُرْبَانُنَا؟ قَالَ فِيكُمْ غُلُولٌ قَالُوا وَكَيْفَ لَنَا أَنْ نَعْلَمَ مَنْ عِنْدَهُ الْغُلُولُ؟ قَالَ وَهُمُ اثْنَا عَشَرَ سِبْطًا قَالَ يُبَايِعُنِي رَأْسُ كُلِّ سِبْطٍ مِنْكُمْ فَبَايَعَهُ رَأْسُ كُلِّ سِبْطٍ قَالَ فَلَزِقَتْ كَفُّ النَّبِيِّ بِكَفِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَقَالَ لَهُ عِنْدَكَ الْغُلُولُ فَقَالَ كَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ عِنْدَ أَيِّ سِبْطٍ هُوَ؟ قَالَ تَدْعُو سِبْطَكَ فَتُبَايِعْهُمْ رَجُلًا رَجُلًا قَالَ فَفَعَلَ فَلَزِقَتْ كَفُّهُ بِكَفِّ رَجُلِ الْغَنَائِمِ فَجَاءَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهُ فَقَالَ كَعْبٌ صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ هَكَذَا وَاللَّهِ فِي كِتَابِ اللَّهِ يَعْنِي فِي التَّوْرَاةِ ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَحَدَّثَكُمُ النَّبِيُّ ﷺ أَيُّ نَبِيٍّ كَانَ؟ قَالَ لَا قَالَ كَعْبٌ هُوَ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ قَالَ فَحَدَّثَكُمْ أَيُّ قَرْيَةٍ هِيَ؟ قَالَ لَا قَالَ هِيَ مَدِينَةُ أَرِيحَا
English Translation
Hadrat Abu Hurayra (may Allah be well pleased with him) narrated: I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say: 'Indeed, a prophet from among the prophets fought the people of a city. When he was about to conquer it, he feared the sun would set. He said to the sun: O sun, you are under command and I am under command. By my honor with You [O Allah], stop for an hour of the day. So Allah held it until he conquered the city. When they obtained spoils, they would place them as an offering, and fire would come and consume them. When they did so [this time], the fire did not come. He said: There is theft from the spoils among you. They asked how to find the thief among their twelve tribes. He said: Let the head of each tribe pledge to me. When the hand of the prophet stuck to the hand of one man, he told that leader to bring his tribe. When they pledged one by one, the leader's hand stuck to the hand of the thief. They brought the stolen goods and fire came and consumed them.' Ka'b said: 'Allah and His Messenger spoke the truth—this is exactly as it is in the Book of Allah, meaning the Torah.' He asked: 'O Abu Hurayra, did the Prophet tell you which prophet that was?' He said: 'No.' Ka'b said: 'He was Joshua son of Nun.' He asked: 'Did he tell you which city it was?' He said: 'No.' Ka'b said: 'It was the city of Jericho.'
Urdu Translation
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: ایک نبی نے ایک شہر والوں سے لڑائی کی۔ جب فتح قریب تھی تو انہیں ڈر ہوا کہ سورج ڈوب جائے گا۔ انہوں نے سورج سے کہا: اے سورج! تو بھی مامور ہے اور میں بھی مامور ہوں، میری عزت کی قسم دے کر کہتا ہوں تھوڑی دیر رک جا۔ اللہ نے اسے روک دیا یہاں تک کہ شہر فتح ہو گیا۔ جب وہ غنیمت پاتے تو قربانی کے طور پر رکھتے اور آگ آ کر اسے کھا جاتی۔ اس بار جب رکھا تو آگ نہ آئی۔ انہوں نے کہا: تم میں غلول (خیانت) ہے۔ لوگوں نے پوچھا: ہمیں کیسے معلوم ہو کہ خیانت کس کے پاس ہے؟ وہ بارہ قبیلے تھے۔ نبی نے کہا: ہر قبیلے کا سردار مجھ سے بیعت کرے۔ جب ایک سردار کا ہاتھ نبی کے ہاتھ سے چپک گیا تو فرمایا: تمہارے پاس خیانت ہے۔ پھر اس نے اپنے قبیلے کو بلایا اور ایک ایک سے بیعت لی، جب خائن کا ہاتھ چپکا تو مالِ غنیمت لایا گیا اور آگ نے اسے کھا لیا۔ کعب نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، اللہ کی قسم یہی اللہ کی کتاب یعنی تورات میں ہے۔ پھر کہا: اے ابو ہریرہ! کیا نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بتایا کہ وہ کون سے نبی تھے؟ کہا: نہیں۔ کعب نے کہا: وہ یوشع بن نون تھے۔ پوچھا: کیا بتایا وہ کون سا شہر تھا؟ کہا: نہیں۔ کعب نے کہا: وہ شہر اریحا (جیریکو) تھا۔
