Arabic (Original)
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها أَنَّ قُرَيْشًا، أَهَمَّتْهُمُ الْمَرْأَةُ الْمَخْزُومِيَّةُ الَّتِي سَرَقَتْ فَقَالُوا مَنْ يُكَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلاَّ أُسَامَةُ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم. فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ". ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ قَالَ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا ضَلَّ مَنْ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ الضَّعِيفُ فِيهِمْ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعَ مُحَمَّدٌ يَدَهَا ".
English Translation
Sa'id ibn Sulayman narrated to us, al-Layth narrated to us, from Ibn Shihab, from 'Urwah, from Umm al-Mu'minin Hadrat 'A'ishah (may Allah be well pleased with her), that the Quraysh were concerned about a Makhzumi woman who had stolen. They said: Who will speak to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)? Who would dare except Hadrat Usamah, the beloved of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)? So Hadrat Usamah spoke to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and he stated: "Do you intercede regarding one of the prescribed punishments of Allah?" Then he stood up and delivered a sermon, saying: "O people! Those before you went astray because when a noble person stole, they would leave him, but when a weak person among them stole, they would carry out the punishment upon him. By Allah! If Hadrat Fatimah bint Muhammad were to steal, Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) would cut off her hand."
Urdu Translation
ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا کہ قریش کو اس مخزومی عورت کی فکر لاحق ہوئی جس نے چوری کی تھی۔ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے کون بات کرے؟ اسامہ کے سوا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے محبوب کے سوا کون جرأت کر سکتا ہے؟ اسامہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے بات کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: "کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد میں سفارش کرتے ہو؟" پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا: "اے لوگو! تم سے پہلے لوگ اسی لیے گمراہ ہوئے کہ جب کوئی بڑا (شریف) آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ان میں کوئی کمزور شخص چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے۔ اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد نے چوری کی ہوتی تو محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) اس کا ہاتھ کاٹ دیتے۔"
