It is narrated by Hadrat Abu Dharr that I came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) while he was wearing white clothes and sleeping. Then I went back to him again after he had got up from his sleep. He said, "Nobody says: 'None has the right to be worshipped but Allah' and then later on he dies while believing in that, except that he will enter Paradise." I said, "Even if he had committed illegal sexual intercourse and theft?" He said. 'Even if he had committed illegal sexual intercourse and theft." I said, "Even if he had committed illegal sexual intercourse and theft?" He said. 'Even if he had committed illegal sexual intercourse and theft." I said, 'Even it he had committed illegal sexual intercourse and theft?' He said, "Even if he had committed illegal sexual intercourse and theft, inspite of the Hadrat Abu Dharr's dislike. Abu `Hadrat Abdullah said, "This is at the time of death or before it if one repents and regrets and says "None has the right to be worshipped but Allah. He will be forgiven his sins
Urdu Translation
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے حسین نے، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے، ان سے یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا، ان سے ابو اسود دیلی نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کے جسم مبارک پر سفید کپڑا تھا اور آپ سو رہے تھے پھر دوبارہ حاضر ہوا تو آپ بیدار ہو چکے تھے پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس بندہ نے بھی کلمہ «لا إله إلا الله» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کو مان لیا اور پھر اسی پر وہ مرا تو جنت میں جائے گا۔ میں نے عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، میں نے پھر عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ میں نے ( حیرت کی وجہ سے پھر ) عرض کیا چاہے اس زنا کیا ہو یا اس نے چوری کی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو چاہے اس نے چوری کی ہو۔ حضرت ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بعد میں جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ حضرت ابوذر کے «على رغم» ( «وإن رغم أنف أبي ذر.» ) ضرور بیان کرتے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا یہ صورت کہ ( صرف کلمہ سے جنت میں داخل ہو گا ) یہ اس وقت ہو گی جب موت کے وقت یا اس سے پہلے ( گناہوں سے ) توبہ کی اور کہا کہ «لا إله إلا الله» اس کی مغفرت ہو جائے گی۔
It is narrated by Hadrat Abu Dharr that I came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) while he was wearing white clothes and sleeping. Then I went back to him again after he had got up from his sleep. He said, "Nobody says: 'None has the right to be worshipped but Allah' and then later on he dies while believing in that, except that he will enter Paradise." I said, "Even if he had committed illegal sexual intercourse and theft?" He said. 'Even if he had committed illegal sexual intercourse and theft." I said, "Even if he had committed illegal sexual intercourse and theft?" He said. 'Even if he had committed illegal sexual intercourse and theft." I said, 'Even it he had committed illegal sexual intercourse and theft?' He said, "Even if he had committed illegal sexual intercourse and theft, inspite of the Hadrat Abu Dharr's dislike. Abu `Hadrat Abdullah said, "This is at the time of death or before it if one repents and regrets and says "None has the right to be worshipped but Allah. He will be forgiven his sins
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے حسین نے، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے، ان سے یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا، ان سے ابو اسود دیلی نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کے جسم مبارک پر سفید کپڑا تھا اور آپ سو رہے تھے پھر دوبارہ حاضر ہوا تو آپ بیدار ہو چکے تھے پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس بندہ نے بھی کلمہ «لا إله إلا الله» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کو مان لیا اور پھر اسی پر وہ مرا تو جنت میں جائے گا۔ میں نے عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، میں نے پھر عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ میں نے ( حیرت کی وجہ سے پھر ) عرض کیا چاہے اس زنا کیا ہو یا اس نے چوری کی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو چاہے اس نے چوری کی ہو۔ حضرت ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بعد میں جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ حضرت ابوذر کے «على رغم» ( «وإن رغم أنف أبي ذر.» ) ضرور بیان کرتے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا یہ صورت کہ ( صرف کلمہ سے جنت میں داخل ہو گا ) یہ اس وقت ہو گی جب موت کے وقت یا اس سے پہلے ( گناہوں سے ) توبہ کی اور کہا کہ «لا إله إلا الله» اس کی مغفرت ہو جائے گی۔