Arabic (Original)
وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُصَلِّي إِلَى الْعِرْقِ الَّذِي عِنْدَ مُنْصَرَفِ الرَّوْحَاءِ، وَذَلِكَ الْعِرْقُ انْتِهَاءُ طَرَفِهِ عَلَى حَافَةِ الطَّرِيقِ، دُونَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمُنْصَرَفِ، وَأَنْتَ ذَاهِبٌ إِلَى مَكَّةَ. وَقَدِ ابْتُنِيَ ثَمَّ مَسْجِدٌ، فَلَمْ يَكُنْ عَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي فِي ذَلِكَ الْمَسْجِدِ، كَانَ يَتْرُكُهُ عَنْ يَسَارِهِ وَوَرَاءَهُ، وَيُصَلِّي أَمَامَهُ إِلَى الْعِرْقِ نَفْسِهِ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَرُوحُ مِنَ الرَّوْحَاءِ، فَلاَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حَتَّى يَأْتِيَ ذَلِكَ الْمَكَانَ فَيُصَلِّي فِيهِ الظُّهْرَ، وَإِذَا أَقْبَلَ مِنْ مَكَّةَ فَإِنْ مَرَّ بِهِ قَبْلَ الصُّبْحِ بِسَاعَةٍ أَوْ مِنْ آخِرِ السَّحَرِ عَرَّسَ حَتَّى يُصَلِّيَ بِهَا الصُّبْحَ.
English Translation
And Hadrat Ibn 'Umar (may Allah be well pleased with them both) would pray facing the ridge ('irq) at the edge of al-Rawha'. That ridge ends at the edge of the road, before the mosque that lies between it and the outskirts of al-Rawha' when going to Makkah. A mosque has now been built there, but Hadrat 'Abdullah bin 'Umar (may Allah be well pleased with them both) did not pray in that mosque. He would leave it to his left and behind him, and would go forward and pray facing the ridge itself. When Hadrat ' Abdullah (may Allah be well pleased with him) set out from al-Rawha', he would not pray Zuhr until he reached that place. And when returning from Makkah, if he passed by it shortly before dawn or at the end of the pre-dawn hours, he would halt there and pray the Fajr prayer.
Urdu Translation
اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما روحاء کے آخری کنارے پر اس چھوٹی پہاڑی (عرق) کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ اس پہاڑی کا سرا راستے کے کنارے پر ختم ہوتا ہے، اس مسجد سے پہلے جو اس (پہاڑی) اور (روحاء کے) آخری حصے کے درمیان ہے — مکہ جاتے ہوئے۔ اب وہاں ایک مسجد بن گئی ہے لیکن حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس مسجد میں نماز نہیں پڑھتے تھے بلکہ اسے اپنے بائیں اور پیچھے چھوڑ دیتے اور آگے بڑھ کر خود عرق پہاڑی کی طرف رخ کر کے نماز ادا فرماتے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب روحاء سے چلتے تو ظہر اس وقت تک نہ پڑھتے جب تک اس مقام پر نہ آ جاتے۔ وہاں آ کر ظہر پڑھتے۔ اور جب مکہ سے واپسی میں صبح صادق سے تھوڑا پہلے یا سحر کے آخر میں اس مقام سے گزرتے تو وہیں ٹھہر کر صبح کی نماز پڑھتے۔
