It is narrated by Hadrat `Hadrat Aisha that (Umm al-Mu'minin, the wife of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), Umm al-Mu'minin,) when Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) was ordered to give option to his wives, he started with me, saying, "I am going to mention to you something, but you shall not hasten (to give your reply) unless you consult your parents." The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) knew that my parents would not order me to leave him. Then he said, "Allah says: 'O the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) (Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him))! Say to your wives: If you desire the life of this world and its glitter........a great reward." (33.28-29) I said, "Then why I consult my parents? Verily, I seek Allah, His Messenger (blessings and peace of Allah be upon him)and the Home of the Hereafter." Then all the other wives of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) did the same as I did
Urdu Translation
اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھے حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اُمّ المؤمنین زوجہ مطہرہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو حکم ہوا کہ اپنی ازواج کو اختیار دیں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تم سے ایک معاملہ کے متعلق کہنے آیا ہوں، ضروری نہیں کہ تم جلدی کرو، اپنے والدین سے بھی مشورہ لے سکتی ہو۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو تو معلوم ہی تھا کہ میرے والدین آپ سے جدائی کا کبھی مشورہ نہیں دے سکتے۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ( وہ آیت جس میں یہ حکم تھا ) پڑھی کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها» ”اے نبی! اپنی بیویوں سے فرما دیجئیے کہ اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت کو چاہتی ہو سے «أجرا عظيما» تک۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا لیکن اپنے والدین سے مشورہ کی کس بات کے لیے ضرورت ہے، ظاہر ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کو چاہتی ہوں۔ بیان کیا کہ پھر دوسری ازواج مطہرات نے بھی وہی کہا جو میں کہہ چکی تھی۔ اس کی متابعت موسیٰ بن اعین نے معمر سے کی ہے کہ ان سے زہری نے بیان کیا کہ انہیں حضرت ابوسلمہ نے خبر دی اور عبدالرزاق اور حضرت ابوسفیان معمری نے معمر سے بیان کیا، ان سے زہری نے، اور ان سے عروہ نے اور ان سے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (12)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
Sahih Muslim
لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي فَقَالَ " إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلاَ عَلَيْكِ أَنْ لاَ تَعْجَلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ " . قَالَتْ قَدْ عَلِمَ أَ…
Jami at-Tirmidhi
لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي فَقَالَ " يَا عَائِشَةُ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلاَ عَلَيْكِ أَنْ لاَ تَسْتَعْجِلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ " . قَال…
It is narrated by Hadrat `Hadrat Aisha that (Umm al-Mu'minin, the wife of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), Umm al-Mu'minin,) when Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) was ordered to give option to his wives, he started with me, saying, "I am going to mention to you something, but you shall not hasten (to give your reply) unless you consult your parents." The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) knew that my parents would not order me to leave him. Then he said, "Allah says: 'O the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) (Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him))! Say to your wives: If you desire the life of this world and its glitter........a great reward." (33.28-29) I said, "Then why I consult my parents? Verily, I seek Allah, His Messenger (blessings and peace of Allah be upon him)and the Home of the Hereafter." Then all the other wives of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) did the same as I did
اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھے حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اُمّ المؤمنین زوجہ مطہرہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو حکم ہوا کہ اپنی ازواج کو اختیار دیں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تم سے ایک معاملہ کے متعلق کہنے آیا ہوں، ضروری نہیں کہ تم جلدی کرو، اپنے والدین سے بھی مشورہ لے سکتی ہو۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو تو معلوم ہی تھا کہ میرے والدین آپ سے جدائی کا کبھی مشورہ نہیں دے سکتے۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ( وہ آیت جس میں یہ حکم تھا ) پڑھی کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها» ”اے نبی! اپنی بیویوں سے فرما دیجئیے کہ اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت کو چاہتی ہو سے «أجرا عظيما» تک۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا لیکن اپنے والدین سے مشورہ کی کس بات کے لیے ضرورت ہے، ظاہر ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کو چاہتی ہوں۔ بیان کیا کہ پھر دوسری ازواج مطہرات نے بھی وہی کہا جو میں کہہ چکی تھی۔ اس کی متابعت موسیٰ بن اعین نے معمر سے کی ہے کہ ان سے زہری نے بیان کیا کہ انہیں حضرت ابوسلمہ نے خبر دی اور عبدالرزاق اور حضرت ابوسفیان معمری نے معمر سے بیان کیا، ان سے زہری نے، اور ان سے عروہ نے اور ان سے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے۔