Arabic (Original)
941 صحيح حديث عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ، بَدَأَ بِي؛ فَقَالَ: إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلاَ عَلَيْكِ أَنْ لاَ تَعْجَلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِى أَبَوَيْكِ، قَالَتْ: وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا يَأَمُرَانِي بِفِرَاقِهِ قَالَتْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الله جَلَّ ثَنَاؤُهُ قَالَ(يأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ َلأزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا)إِلَى(أَجْرًا عَظِيمًا)قَالَتْ: فَقُلْتُ فَفِي أَيِّ هذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ، فَإِنِّي أُرِيدُ الله وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ؛ قَالَتْ: ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ
English Translation
Aisha (may Allah be pleased with her), the wife of the Prophet (peace be upon him), narrated: When the Messenger of Allah (peace be upon him) was commanded to give his wives the choice, he started with me and said: "I am going to mention something to you, and there is no need to rush until you consult your parents." She said: He knew that my parents would never advise me to leave him. Then he said: "Indeed, Allah the Exalted says: 'O Prophet, say to your wives: If you desire the life of this world and its adornment, then come, I will provide for you and release you with a good release. But if you desire Allah and His Messenger and the abode of the Hereafter, then indeed Allah has prepared for the doers of good among you a great reward.'" (al-Ahzab: 28-29) She said: "For what matter should I consult my parents? Indeed, I desire Allah, His Messenger, and the abode of the Hereafter." She said: Then the other wives of the Prophet (peace be upon him) did as I had done.
Urdu Translation
نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو حکم ہوا کہ اپنی ازواج کو اختیار دیں تو آپ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا:”میں تم سے ایک معاملے کے متعلق کہنے آیا ہوں، ضروری نہیں کہ تم جلدی کرو، اپنے والدین سے بھی مشورہ لے سکتی ہو۔“انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو تو معلوم ہی تھا کہ میرے والدین آپ سے جدائی کا کبھی مشورہ نہیں دے سکتے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِيدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا ۞ وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِيدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا﴾[سورة الأحزاب: 28-29]”اے نبی! اپنی بیویوں سے فرما دیجیے کہ اگر دنیوی زندگی اور اس کی زینت کو چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ چھوڑ دوں اور اگر تمہاری مراد اللہ اور رسول اور آخرت کا گھر ہے تو یقین مانو کہ تم میں سے نیک کام کرنے والیوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے بہت زبردست اجر رکھ چھوڑے ہیں۔“سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: اس میں اپنے والدین سے مشورہ کس بات کے لیے ضروری ہے؟ ظاہر ہے کہ میں اللہ، اس کے رسول اور عالمِ آخرت کو چاہتی ہوں؛ بیان کیا کہ پھر دوسری ازواجِ مطہرات نے بھی وہی کہا جو میں کہہ چکی تھی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطلاق/حدیث: 941]
