Arabic (Original)
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَسَرَتِ الرُّبَيِّعُ ـ وَهْىَ عَمَّةُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَطَلَبَ الْقَوْمُ الْقِصَاصَ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْقِصَاصِ. فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ عَمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ لاَ وَاللَّهِ لاَ تُكْسَرْ سِنُّهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ ". فَرَضِيَ الْقَوْمُ وَقَبِلُوا الأَرْشَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأَبَرَّهُ ".
English Translation
It is narrated by Hadrat Anas (bin Malik) that Ar-Rubai (the paternal aunt of Hadrat Anas bin Malik) broke the incisor tooth of a young Ansari girl. Her family demanded the Qisas and they came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) who passed the judgment of Qisas. Anas bin An-Nadr (the paternal uncle of Hadrat Anas bin Malik) said, "O Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him)! By Allah, her tooth will not be broken." the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "O Hadrat Anas! (The law prescribed in) Allah's Book is Qisas." But the people (i.e. the relatives of the girl) gave up their claim and accepted a compensation. On that Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "Some of Allah's worshippers are such that if they take an oath, Allah will fulfill it for them
Urdu Translation
مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو مروان بن حضرت معاویہ فزاری نے خبر دی، انہیں حمید طویل نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ ربیع نے جو انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پھوپھی تھیں، انصار کی ایک لڑکی کے آگے کے دانت توڑ دیئے۔ لڑکی والوں نے قصاص چاہا اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بھی قصاص کا حکم دیا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چچا انس بن نضر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! ان کا دانت نہ توڑ ا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ انس! لیکن کتاب اللہ کا حکم قصاص ہی کا ہے۔ پھر لڑکی والے معافی پر راضی ہو گئے اور دیت لینا منظور کر لیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے بہت سے بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کا نام لے کر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم سچی کر دیتا ہے۔
