Arabic (Original)
1090 صحيح حديث أَنَسٍ، قَالَ: كَسَرَتِ الرُّبيِّعُ، وَهِيَ عَمَّةُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَطَلَبَ الْقَوْمُ الْقِصَاصَ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِصَاصِ؛ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ، عَمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: لاَ وَاللهِ لاَ تُكْسَرُ سِنُّهَا يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَنَسُ كِتَابُ اللهِ الْقِصَاصُ فَرَضِيَ الْقَوْمُ وَقَبِلُوا الأَرْشَ؛ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لأَبَرَّهُ
English Translation
Abu Musa (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (peace be upon him) said to me: "Shall I not guide you to one of the treasures of Paradise?" I said: "Yes, O Messenger of Allah." He said: "La hawla wa la quwwata illa billah (There is no power nor strength except with Allah)."
Urdu Translation
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدہ ربیع رضی اللہ عنہا نے، جو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھیں، انصار کی ایک لڑکی کے آگے کے دانت توڑ دیے۔ لڑکی والوں نے قصاص چاہا اور نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے بھی قصاص کا حکم دیا۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے چچا سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! ان کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اے انس!«كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ»”کتاب اللہ کا حکم قصاص ہی کا ہے“۔“پھر لڑکی والے معافی پر راضی ہو گئے اور دیت لینا منظور کر لیا۔ اس پر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”«إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ»”اللہ کے بہت سے بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کا نام لے کر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم سچی کر دیتا ہے“۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب القسامة/حدیث: 1090]
