Sahih al-BukhariVirtues and Merits of the Prophet (pbuh) and his Companions#3578Sahih
Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لأُمِّ سُلَيْمٍ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَعِيفًا، أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَىْءٍ قَالَتْ نَعَمْ. فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ، ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ، ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ يَدِي وَلاَثَتْنِي بِبَعْضِهِ، ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَذَهَبْتُ بِهِ، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ، فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " آرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ ". فَقُلْتُ نَعَمْ. قَالَ بِطَعَامٍ. فَقُلْتُ نَعَمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَنْ مَعَهُ " قُومُوا ". فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ. فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالنَّاسِ، وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ. فَقَالَتِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ ". فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَفُتَّ، وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً فَأَدَمَتْهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ". فَأَذِنَ لَهُمْ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ". فَأَذِنَ لَهُمْ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ". فَأَذِنَ لَهُمْ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ". فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا، وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ ـ أَوْ ثَمَانُونَ ـ رَجُلاً.
English Translation
It is narrated by Hadrat Anas bin Malik that Abu Hadrat Talha said to Um Sulaim, "I have noticed feebleness in the voice of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) which I think, is caused by hunger. Have you got any food?" She said, "Yes." She brought out some loaves of barley and took out a veil belonging to her, and wrapped the bread in part of it and put it under my arm and wrapped part of the veil round me and sent me to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) . I went carrying it and found the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) in the Mosque sitting with some people. When I stood there, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) inquired, "Has Abu Hadrat Talha sent you?" I said, "Yes". He asked, "With some food? I said, "Yes" the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) then stated to the men around him, "Get up!" He set out (accompanied by them) and I went ahead of them till I reached Abu Hadrat Talha and told him (of the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) 's visit). Abu Hadrat Talha said, "O Um Sulaim! the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) is coming with the people and we have no food to feed them." She said, "Allah and His Messenger know better." So Abu Hadrat Talha went out to receive the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) . the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came along with Abu Hadrat Talha. the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "O Um Sulaim! Bring whatever you have." She brought the bread which the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) ordered to be broken into pieces. Um Sulaim poured on them some butter from an oilskin. Then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) recited what Allah wished him to recite, and then said, "Let ten persons come (to share the meal)." Ten persons were admitted, ate their fill and went out. Then he again said, "Let another ten do the same." They were admitted, ate their fill and went out. Then he again said, '"'Let another ten persons (do the same.)" They were admitted, ate their fill and went out. Then he said, "Let another ten persons come." In short, all of them ate their fill, and they were seventy or eighty men
Urdu Translation
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو مالک نے خبر دی، انہیں اسحٰق بن عبداللہ بن ابی حضرت طلحہ نے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( میری والدہ ) ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سنی تو آپ کی آواز میں بہت ضعف معلوم ہوا۔ میرا خیال ہے کہ آپ بہت بھوکے ہیں۔ کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں، چنانچہ انہوں نے جَو کی چند روٹیاں نکالیں، پھر اپنی اوڑھنی نکالی او اس میں روٹیوں کو لپیٹ کر میرے ہاتھ میں چھپا دیا اور اس اوڑھنی کا دوسرا حصہ میرے بدن پر باندھ دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مجھے بھیجا۔ میں جو گیا تو آپ مسجد میں تشریف رکھتے تھے۔ آپ کے ساتھ بہت سے صحابہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ میں آپ کے پاس کھڑا ہو گیا تو آپ نے فرمایا کیا حضرت ابوطلحہ نے تمہیں بھیجا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ نے دریافت فرمایا، کچھ کھانا دے کر؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، جو صحابہ آپ کے ساتھ اس وقت موجود تھے، ان سب سے آپ نے فرمایا کہ چلو اٹھو، آپ تشریف لانے لگے اور میں آپ کے آگے آگے لپک رہا تھا اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر پہنچ کر میں نے انہیں خبر دی۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا، ام سلیم! نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تو بہت سے لوگوں کو ساتھ لائے ہیں ہمارے پاس اتنا کھانا کہاں ہے کہ سب کو کھلایا جا سکے؟ ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ( ہم فکر کیوں کریں؟ ) خیر حضرت ابوطلحہ آگے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے ملے۔ اب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وہ بھی چل رہے تھے۔ ام سلیم نے وہی روٹی لا کر آپ کے سامنے رکھ دی، پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے روٹیوں کا چورا کر دیا گیا، ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کپی نچوڑ کر اس پر کچھ گھی ڈال دیا، اور اس طرح سالن ہو گیا، آپ نے اس کے بعد اس پر دعا کی جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ پھر فرمایا دس آدمیوں کو بلا لو، انہوں نے ایسا ہی کیا، ان سب نے روٹی پیٹ بھر کر کھائی اور جب یہ لوگ باہر گئے تو آپ نے فرمایا کہ پھر دس آدمیوں کو بلا لو۔ چنانچہ دس آدمیوں کو بلایا گیا، انہوں نے بھی پیٹ بھر کر کھایا، جب یہ لوگ باہر گئے تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پھر دس ہی آدمیوں کو اندر بلا لو۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور انہوں نے بھی پیٹ بھر کر کھایا۔ جب وہ باہر گئے تو آپ نے فرمایا کہ پھر دس آدمیوں کو دعوت دے دو۔ اس طرح سب لوگوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ ان لوگوں کی تعداد ستر یا اسی تھی۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (10)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
Sahih al-Bukhari
قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لأُمِّ سُلَيْمٍ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ، فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَىْءٍ فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ، ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارً…
Sahih al-Bukhari
قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لأُمِّ سُلَيْمٍ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ، فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَىْءٍ فَقَالَتْ نَعَمْ. فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ، ثُمّ…
قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لأُمِّ سُلَيْمٍ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَىْءٍ فَقَالَتْ نَعَمْ . فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ثُمَّ…
Riyad as-Salihin
قال أبو طلحة لأم سليم: قد سمعت صوت رسول الله صلى الله عليه وسلم ضعيفاً أعرف فيه الجوع، فهل عندك من شيء؟ فقالت: نعم، فأخرجت أقراصاً من شعير، ثم أخذت خماراً لها، فلفت الخبز ببعضه، ثم دسته تحت ثوبي وردتني ببعضه، ثم أر…
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لأُمِّ سُلَيْمٍ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ضَعِيفًا، أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَىْءٍ قَالَتْ نَعَمْ. فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ، ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ، ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ يَدِي وَلاَثَتْنِي بِبَعْضِهِ، ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَذَهَبْتُ بِهِ، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ، فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " آرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ ". فَقُلْتُ نَعَمْ. قَالَ بِطَعَامٍ. فَقُلْتُ نَعَمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَنْ مَعَهُ " قُومُوا ". فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ. فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالنَّاسِ، وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ. فَقَالَتِ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ ". فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَفُتَّ، وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَّةً فَأَدَمَتْهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ". فَأَذِنَ لَهُمْ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ". فَأَذِنَ لَهُمْ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا، ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ". فَأَذِنَ لَهُمْ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ " ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ ". فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا، وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ ـ أَوْ ثَمَانُونَ ـ رَجُلاً.
It is narrated by Hadrat Anas bin Malik that Abu Hadrat Talha said to Um Sulaim, "I have noticed feebleness in the voice of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) which I think, is caused by hunger. Have you got any food?" She said, "Yes." She brought out some loaves of barley and took out a veil belonging to her, and wrapped the bread in part of it and put it under my arm and wrapped part of the veil round me and sent me to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) . I went carrying it and found the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) in the Mosque sitting with some people. When I stood there, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) inquired, "Has Abu Hadrat Talha sent you?" I said, "Yes". He asked, "With some food? I said, "Yes" the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) then stated to the men around him, "Get up!" He set out (accompanied by them) and I went ahead of them till I reached Abu Hadrat Talha and told him (of the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) 's visit). Abu Hadrat Talha said, "O Um Sulaim! the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) is coming with the people and we have no food to feed them." She said, "Allah and His Messenger know better." So Abu Hadrat Talha went out to receive the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) . the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came along with Abu Hadrat Talha. the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "O Um Sulaim! Bring whatever you have." She brought the bread which the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) ordered to be broken into pieces. Um Sulaim poured on them some butter from an oilskin. Then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) recited what Allah wished him to recite, and then said, "Let ten persons come (to share the meal)." Ten persons were admitted, ate their fill and went out. Then he again said, "Let another ten do the same." They were admitted, ate their fill and went out. Then he again said, '"'Let another ten persons (do the same.)" They were admitted, ate their fill and went out. Then he said, "Let another ten persons come." In short, all of them ate their fill, and they were seventy or eighty men
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو مالک نے خبر دی، انہیں اسحٰق بن عبداللہ بن ابی حضرت طلحہ نے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( میری والدہ ) ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سنی تو آپ کی آواز میں بہت ضعف معلوم ہوا۔ میرا خیال ہے کہ آپ بہت بھوکے ہیں۔ کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں، چنانچہ انہوں نے جَو کی چند روٹیاں نکالیں، پھر اپنی اوڑھنی نکالی او اس میں روٹیوں کو لپیٹ کر میرے ہاتھ میں چھپا دیا اور اس اوڑھنی کا دوسرا حصہ میرے بدن پر باندھ دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مجھے بھیجا۔ میں جو گیا تو آپ مسجد میں تشریف رکھتے تھے۔ آپ کے ساتھ بہت سے صحابہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ میں آپ کے پاس کھڑا ہو گیا تو آپ نے فرمایا کیا حضرت ابوطلحہ نے تمہیں بھیجا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ نے دریافت فرمایا، کچھ کھانا دے کر؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، جو صحابہ آپ کے ساتھ اس وقت موجود تھے، ان سب سے آپ نے فرمایا کہ چلو اٹھو، آپ تشریف لانے لگے اور میں آپ کے آگے آگے لپک رہا تھا اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر پہنچ کر میں نے انہیں خبر دی۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا، ام سلیم! نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تو بہت سے لوگوں کو ساتھ لائے ہیں ہمارے پاس اتنا کھانا کہاں ہے کہ سب کو کھلایا جا سکے؟ ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ( ہم فکر کیوں کریں؟ ) خیر حضرت ابوطلحہ آگے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے ملے۔ اب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وہ بھی چل رہے تھے۔ ام سلیم نے وہی روٹی لا کر آپ کے سامنے رکھ دی، پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے روٹیوں کا چورا کر دیا گیا، ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کپی نچوڑ کر اس پر کچھ گھی ڈال دیا، اور اس طرح سالن ہو گیا، آپ نے اس کے بعد اس پر دعا کی جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ پھر فرمایا دس آدمیوں کو بلا لو، انہوں نے ایسا ہی کیا، ان سب نے روٹی پیٹ بھر کر کھائی اور جب یہ لوگ باہر گئے تو آپ نے فرمایا کہ پھر دس آدمیوں کو بلا لو۔ چنانچہ دس آدمیوں کو بلایا گیا، انہوں نے بھی پیٹ بھر کر کھایا، جب یہ لوگ باہر گئے تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پھر دس ہی آدمیوں کو اندر بلا لو۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور انہوں نے بھی پیٹ بھر کر کھایا۔ جب وہ باہر گئے تو آپ نے فرمایا کہ پھر دس آدمیوں کو دعوت دے دو۔ اس طرح سب لوگوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ ان لوگوں کی تعداد ستر یا اسی تھی۔