Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَجِيءُ نُوحٌ وَأُمَّتُهُ فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى هَلْ بَلَّغْتَ فَيَقُولُ نَعَمْ، أَىْ رَبِّ. فَيَقُولُ لأُمَّتِهِ هَلْ بَلَّغَكُمْ فَيَقُولُونَ لاَ، مَا جَاءَنَا مِنْ نَبِيٍّ. فَيَقُولُ لِنُوحٍ مَنْ يَشْهَدُ لَكَ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم وَأُمَّتُهُ، فَنَشْهَدُ أَنَّهُ قَدْ بَلَّغَ، وَهْوَ قَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ} وَالْوَسَطُ الْعَدْلُ ".
English Translation
It is narrated by Hadrat Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated, Hadrat 'Nuh (upon him be peace) and his nation shall come on the Day of Resurrection. Allah the Exalted will ask: Did you convey the message? He will submit: Yes, O my Lord! Then Allah will ask his nation: Did he convey My message to you? They will reply: No, no prophet came to us. Then Allah will say to Hadrat Nuh (upon him be peace): Who shall bear witness for you? He will submit: Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) and his Ummah. So we shall testify that he indeed conveyed the message. This is the meaning of the declaration of Allah, Exalted is His mention: "And thus We have made you a justly balanced nation, that you may be witnesses over mankind." And "wasat" means just and balanced.'
Urdu Translation
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا "قیامت کے دن حضرت نوح علیہ السلام اپنی امت کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا: کیا تم نے میرا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ عرض کریں گے: ہاں اے میرے رب! پھر اللہ تعالیٰ ان کی امت سے دریافت فرمائے گا: کیا انہوں نے تم تک میرا پیغام پہنچایا تھا؟ وہ کہیں گے: نہیں، ہمارے پاس کوئی نبی نہیں آیا۔ تب اللہ تعالیٰ حضرت نوح علیہ السلام سے ارشاد فرمائے گا: تمہاری گواہی کون دے گا؟ وہ عرض کریں گے: حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی امت۔ چنانچہ ہم گواہی دیں گے کہ بے شک انہوں نے پیغام پہنچا دیا تھا۔ اور یہی مفہوم ہے اللہ جل ذکرہ کے اس ارشاد کا: 'اور اسی طرح ہم نے تمہیں امتِ وسط بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔' اور وسط کے معنی عدل (انصاف) کے ہیں۔"
