Arabic (Original)
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ أَبِي يُونُسَ الْقُشَيْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقْتُلُ الْحَيَّاتِ ثُمَّ نَهَى قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم هَدَمَ حَائِطًا لَهُ، فَوَجَدَ فِيهِ سِلْخَ حَيَّةٍ فَقَالَ " انْظُرُوا أَيْنَ هُوَ ". فَنَظَرُوا فَقَالَ " اقْتُلُوهُ ". فَكُنْتُ أَقْتُلُهَا لِذَلِكَ. فَلَقِيتُ أَبَا لُبَابَةَ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لاَ تَقْتُلُوا الْجِنَّانَ، إِلاَّ كُلَّ أَبْتَرَ ذِي طُفْيَتَيْنِ، فَإِنَّهُ يُسْقِطُ الْوَلَدَ، وَيُذْهِبُ الْبَصَرَ، فَاقْتُلُوهُ ".
English Translation
It is narrated from Hadrat Ibn 'Umar (may Allah be well pleased with them both — via Ibn Abi Mulayka) that he used to kill snakes, but then he refrained. He said: The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) once demolished a wall of his and found a cast-off skin of a snake in it. He declared: Look for where this (snake) is! They searched for it, and he declared: Kill it! For this reason I used to kill snakes. Then I met Hadrat Abu Lubaba (may Allah be well pleased with him) and he informed me that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) had declared: Do not kill the snakes that dwell in houses (the Jinnan), except every Abtar (short-tailed) Dhu al-Tufyatayn (with two white lines), for it causes miscarriage and destroys the eyesight — so kill it.
Urdu Translation
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے (ابن ابی مُلَیکہ کے واسطے سے) مروی ہے کہ وہ سانپوں کو مارا کرتے تھے، لیکن پھر انہوں نے اس سے منع فرمایا۔ فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے (ایک مرتبہ) اپنی ایک دیوار گرائی تو اس میں ایک سانپ کی کینچلی ملی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دیکھو یہ (سانپ) کہاں ہے! لوگوں نے تلاش کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: اسے مار ڈالو! اسی وجہ سے میں سانپوں کو مارا کرتا تھا، لیکن پھر مجھے حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: گھروں کے سانپ (جِنَّان) مت مارو، ہاں مگر ہر ابتر (ٹنڈے دم والے) ذو الطُّفْيَتَيْن (دو دھاری والے) کو ضرور مارو، کیونکہ وہ حمل ساقط کر دیتا ہے اور بینائی ختم کر دیتا ہے — پس اسے مار ڈالو۔
