Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " ثُمَّ فَتَرَ عَنِّي الْوَحْىُ فَتْرَةً، فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي قِبَلَ السَّمَاءِ فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، فَجُئِثْتُ مِنْهُ حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الأَرْضِ، فَجِئْتُ أَهْلِي فَقُلْتُ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي. فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ} إِلَى {فَاهْجُرْ} ". قَالَ أَبُو سَلَمَةَ وَالرِّجْزُ الأَوْثَانُ.
English Translation
It is narrated from Hadrat Jabir bin Hadrat 'Abdullah (may Allah be well pleased with them both) that he heard the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) declaring: (After the first revelation at the Cave of Hira through Jibril, upon him be peace) the revelation ceased for a period. Then while I was walking, I heard a voice from the sky. I raised my gaze towards the sky and saw the same angel who had come to me in the Cave of Hira (i.e. Jibril, upon him be peace), seated on a chair between the heaven and the earth. I was so overwhelmed with awe that I fell to the ground. I came to my family and said: Cover me up! Cover me up! Then Allah the Exalted revealed: 'O you who are wrapped up (in garments)!' to 'And the idols — shun them!' (74:1-5). Abu Salama said: 'Al-Rijz' (in the verse) means idols.
Urdu Translation
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: (پہلے غارِ حرا میں جبرائیل علیہ السلام سورۃ اقراء پڑھا کر تشریف لے گئے تھے، اس کے بعد) مجھ پر وحی کا نزول ایک مدت تک بند رہا۔ ایک بار میں چلا جا رہا تھا کہ میں نے آسمان سے ایک آواز سنی۔ میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو دیکھا کہ وہی فرشتہ جو غارِ حرا میں میرے پاس تشریف لائے تھے (یعنی جبرائیل علیہ السلام) آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں ان سے اتنا ڈر گیا کہ زمین پر گر پڑا۔ پھر میں اپنے گھر آیا اور کہنے لگا: مجھے کپڑا اوڑھا دو، مجھے کپڑا اوڑھا دو! تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: «يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» سے «فَاهْجُرْ» تک۔ حضرت ابوسلمہ نے فرمایا: (آیت میں) «الرِّجْز» سے مراد بت ہیں۔
