Arabic (Original)
100 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: بَيْنَا أَنَا أَمْشِي إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِي فَإِذَا الْمَلكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، فَرُعِبْتُ مِنْهُ، فَرَجَعْتُ، فَقُلْتُ: زَمِّلُونِي، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى(يأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ)إِلَى قَوْلِهِ:(وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ)فَحَمِيَ الْوَحْيُ وَتَتَابَعَ
English Translation
Adi ibn Hatim (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) mentioned the Fire and turned his face away and sought refuge (from it). Then he mentioned the Fire and turned his face away and sought refuge (from it). Then he said: "Guard yourselves against the Fire, even with half a date. And whoever cannot find even that, then with a kind word."
Urdu Translation
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے وحی کے رک جانے کے زمانے کے حالات بیان کرتے ہوئے فرمایا:”ایک روز میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان کی طرف ایک آواز سنی اور میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غارِ حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے بیچ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے، میں اس سے ڈر گیا اور گھر آنے پر میں نے پھر کمبل اوڑھنے کی خواہش ظاہر کی، اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں:﴿اے لحاف اوڑھ کر لیٹنے والے! اٹھ کھڑا ہو اور لوگوں کو عذابِ الٰہی سے ڈرا، اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر، اور اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھ، اور گندگی سے دور رہ﴾[سورة المدثر: 1-5]، اس کے بعد وحی تیزی کے ساتھ پے در پے آنے لگی۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 100]
