Arabic (Original)
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ بِخَيْبَرَ بَعْدَ مَا افْتَتَحُوهَا، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْهِمْ لِي. فَقَالَ بَعْضُ بَنِي سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ لاَ تُسْهِمْ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ هَذَا قَاتِلُ ابْنِ قَوْقَلٍ. فَقَالَ ابْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ وَاعَجَبًا لِوَبْرٍ تَدَلَّى عَلَيْنَا مِنْ قَدُومِ ضَأْنٍ، يَنْعَى عَلَىَّ قَتْلَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْرَمَهُ اللَّهُ عَلَى يَدَىَّ وَلَمْ يُهِنِّي عَلَى يَدَيْهِ. قَالَ فَلاَ أَدْرِي أَسْهَمَ لَهُ أَمْ لَمْ يُسْهِمْ لَهُ. قَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنِيهِ السَّعِيدِيُّ عَنْ جَدِّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ السَّعِيدِيُّ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ.
English Translation
It is narrated by Hadrat Abu Hurayra (may Allah be well pleased with him) who states: I came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) at Khaybar after it had been conquered. I submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Give me a share. One of the sons of Sa'id bin al-'As said: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Do not give him a share. Hadrat Abu Hurayra (may Allah be well pleased with him) said: This is the killer of Ibn Qawqal (may Allah be well pleased with him). The son of Sa'id bin al-'As replied: How strange! A wild cat who descended upon us from the mountain of Qadum Da'n reproaches me for killing a Muslim man whom Allah honoured through my hands and did not dishonour me through his. Hadrat Abu Hurayra (may Allah be well pleased with him) states: I do not know whether he gave me a share or not.
Urdu Translation
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں خیبر میں حاضر ہوا جبکہ خیبر فتح ہو چکا تھا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بھی (مالِ غنیمت میں) حصہ عطا فرمائیے۔ بنی سعید بن العاص میں سے ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! اسے حصہ نہ دیجیے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: یہ ابنِ قوقل (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کا قاتل ہے۔ ابنِ سعید بن العاص نے کہا: عجیب بات ہے! ایک گیدڑ جو قدوم ضان (پہاڑ) سے لٹک کر ہمارے پاس آ پہنچا ہے، مجھ پر ایک مسلمان شخص کے قتل کا الزام لگاتا ہے جسے اللہ نے میرے ہاتھوں عزت بخشی اور مجھے اس کے ہاتھوں ذلیل نہیں کیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حصہ دیا یا نہیں۔
