وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ إِنَّ بَرِيرَةَ دَخَلَتْ عَلَيْهَا تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا وَعَلَيْهَا خَمْسَةُ أَوَاقٍ، نُجِّمَتْ عَلَيْهَا فِي خَمْسِ سِنِينَ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ وَنَفِسَتْ فِيهَا أَرَأَيْتِ إِنْ عَدَدْتُ لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً، أَيَبِيعُكِ أَهْلُكِ، فَأُعْتِقَكِ، فَيَكُونَ وَلاَؤُكِ لِي فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا، فَعَرَضَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا لاَ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ لَنَا الْوَلاَءُ. قَالَتْ عَائِشَةُ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ". ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهْوَ بَاطِلٌ، شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ ".
English Translation
Laith narrated to us from Yunus, from Ibn Shihab. Urwah stated that Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha Siddiqah (may Allah be well pleased with her) stated that Hadrat Barirah (may Allah be well pleased with her) came to her seeking help in her contract of emancipation (kitabah). She still owed five awaq (of silver), due over five years. Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) said to her, being inclined towards her, 'If I pay your masters the entire amount at once, would they sell you so that I may set you free, and the wala (patronage) be mine?' So Barirah (may Allah be well pleased with her) went to her masters and presented this offer. They said, 'No, unless the wala remains ours.' Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) stated, 'Then I went to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and mentioned this to him.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) declared to her, 'Buy her and set her free, for the wala belongs only to the one who sets free.' Then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stood up and declared, 'What is the matter with people who stipulate conditions that are not in the Book of Allah! Whoever stipulates a condition that is not in the Book of Allah, it is void. The condition of Allah is more rightful and more binding.'
Urdu Translation
اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ابن شہاب سے، عروہ نے فرمایا کہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ان کے پاس آئیں اور اپنی کتابت (آزادی کے معاہدے) میں مدد چاہی۔ ان پر پانچ اوقیہ (چاندی) باقی تھے جو پانچ سال میں ادا ہونے تھے۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان سے فرمایا اور ان کا دل بریرہ کی طرف مائل ہوا کہ اگر میں تمہارے مالکوں کو ایک ہی مرتبہ پوری رقم ادا کر دوں تو کیا وہ تمہیں بیچ دیں گے تاکہ میں تمہیں آزاد کر دوں اور ولاء (سرپرستی) میری ہو؟ تو بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے مالکوں کے پاس گئیں اور یہ بات ان کے سامنے رکھی۔ انہوں نے کہا کہ نہیں، الّا یہ کہ ولاء ہماری ہو۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور یہ بات عرض کی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ تم اسے خرید کر آزاد کر دو، کیونکہ ولاء تو صرف آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں! جس نے ایسی شرط لگائی جو کتاب اللہ میں نہیں ہے وہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شرط زیادہ حق دار اور زیادہ مضبوط ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ جَاءَتْ بَرِيرَةُ فَقَالَتْ إِنِّي كَاتَبْتُ…
Sahih al-Bukhari
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ جَاءَتْنِي بَرِيرَةُ فَقَالَتْ كَاتَ…
Sahih al-Bukhari
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِه…
Sahih al-Bukhari
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه…
وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ إِنَّ بَرِيرَةَ دَخَلَتْ عَلَيْهَا تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا وَعَلَيْهَا خَمْسَةُ أَوَاقٍ، نُجِّمَتْ عَلَيْهَا فِي خَمْسِ سِنِينَ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ وَنَفِسَتْ فِيهَا أَرَأَيْتِ إِنْ عَدَدْتُ لَهُمْ عَدَّةً وَاحِدَةً، أَيَبِيعُكِ أَهْلُكِ، فَأُعْتِقَكِ، فَيَكُونَ وَلاَؤُكِ لِي فَذَهَبَتْ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا، فَعَرَضَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا لاَ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ لَنَا الْوَلاَءُ. قَالَتْ عَائِشَةُ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ". ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا بَالُ رِجَالٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهْوَ بَاطِلٌ، شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ ".
Laith narrated to us from Yunus, from Ibn Shihab. Urwah stated that Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha Siddiqah (may Allah be well pleased with her) stated that Hadrat Barirah (may Allah be well pleased with her) came to her seeking help in her contract of emancipation (kitabah). She still owed five awaq (of silver), due over five years. Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) said to her, being inclined towards her, 'If I pay your masters the entire amount at once, would they sell you so that I may set you free, and the wala (patronage) be mine?' So Barirah (may Allah be well pleased with her) went to her masters and presented this offer. They said, 'No, unless the wala remains ours.' Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her) stated, 'Then I went to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and mentioned this to him.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) declared to her, 'Buy her and set her free, for the wala belongs only to the one who sets free.' Then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stood up and declared, 'What is the matter with people who stipulate conditions that are not in the Book of Allah! Whoever stipulates a condition that is not in the Book of Allah, it is void. The condition of Allah is more rightful and more binding.'
اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ابن شہاب سے، عروہ نے فرمایا کہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ان کے پاس آئیں اور اپنی کتابت (آزادی کے معاہدے) میں مدد چاہی۔ ان پر پانچ اوقیہ (چاندی) باقی تھے جو پانچ سال میں ادا ہونے تھے۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان سے فرمایا اور ان کا دل بریرہ کی طرف مائل ہوا کہ اگر میں تمہارے مالکوں کو ایک ہی مرتبہ پوری رقم ادا کر دوں تو کیا وہ تمہیں بیچ دیں گے تاکہ میں تمہیں آزاد کر دوں اور ولاء (سرپرستی) میری ہو؟ تو بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے مالکوں کے پاس گئیں اور یہ بات ان کے سامنے رکھی۔ انہوں نے کہا کہ نہیں، الّا یہ کہ ولاء ہماری ہو۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور یہ بات عرض کی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ تم اسے خرید کر آزاد کر دو، کیونکہ ولاء تو صرف آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں! جس نے ایسی شرط لگائی جو کتاب اللہ میں نہیں ہے وہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شرط زیادہ حق دار اور زیادہ مضبوط ہے۔