Arabic (Original)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَمِّهِ، ظُهَيْرِ بْنِ رَافِعٍ قَالَ ظُهَيْرٌ لَقَدْ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِنَا رَافِقًا. قُلْتُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَهْوَ حَقٌّ. قَالَ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَا تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ ". قُلْتُ نُؤَاجِرُهَا عَلَى الرُّبُعِ وَعَلَى الأَوْسُقِ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ. قَالَ " لا تَفْعَلُوا ازْرَعُوهَا أَوْ أَزْرِعُوهَا أَوْ أَمْسِكُوهَا ". قَالَ رَافِعٌ قُلْتُ سَمْعًا وَطَاعَةً.
English Translation
It is narrated from Hadrat Zuhair bin Rafi' (may Allah be well pleased with him) who stated: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) forbade us from something that was beneficial to us. I said (to Rafi'): Whatever the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated is the truth. He stated: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) summoned me and asked: 'What do you do with your farmland?' I submitted: 'We rent it out for a quarter share, or for some Wasqs of dates and barley.' He stated: 'Do not do that. Either cultivate it yourselves, or have others cultivate it, or keep it idle.' Hadrat Rafi' (may Allah be well pleased with him) stated: I submitted: 'We hear and obey.'
Urdu Translation
حضرت ظہیر بن رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرمایا جو ہمارے لیے فائدہ مند تھا۔ میں نے (رافع سے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جو بھی ارشاد فرمایا وہ حق ہے۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلایا اور دریافت فرمایا: تم لوگ اپنے کھیتوں کا کیا معاملہ کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: ہم چوتھائی حصے پر اور کھجور اور جَو کے چند وسق پر ٹھیکے پر دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایسا نہ کرو! یا خود کاشت کرو، یا دوسرے سے کراؤ، یا یوں ہی رکھے رکھو۔ حضرت رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے عرض کیا: سمعاً و طاعۃً (سنا اور مان لیا)۔
