Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ قَالَ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ فَقَالَ هَذَانِ يَوْمَانِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ صِيَامِهِمَا يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَالْيَوْمُ الآخَرُ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ. قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ مَنْ قَالَ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ فَقَدْ أَصَابَ وَمَنْ قَالَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَدْ أَصَابَ
English Translation
It is narrated by Abu Ubaid, the freed slave of Ibn Azhar, who said, "I was present at the Eid with Hadrat Umar bin al-Khattab (may Allah be well pleased with him). He said, 'These are two days on which the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) forbade fasting: the day of your breaking fast (Eid al-Fitr) after the fasts of Ramadan, and the other day on which you eat the meat of your sacrifices (Eid al-Adha).' Imam Bukhari (may the mercy of Allah be upon him) said, Sufyan bin Uyaynah said, 'Whoever called Abu Ubaid the slave of Ibn Azhar was correct, and whoever called him the slave of Hadrat Abdur Rahman bin Awf (may Allah be well pleased with him) was also correct (because Ibn Azhar and Hadrat Abdur Rahman bin Awf, may Allah be well pleased with him, were both co-owners of this slave).'"
Urdu Translation
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، ان سے ابن ازہر کے آزاد کردہ غلام ابوعبید نے فرمایا کہ عید کے دن میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: یہ دو دن ایسے ہیں جن کے روزوں کی نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے: (رمضان کے) روزوں کے بعد افطار کا دن (عیدالفطر) اور دوسرا وہ دن جس میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو (یعنی عیدالاضحیٰ کا دن)۔ امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: سفیان بن عیینہ نے فرمایا: جس نے ابوعبید کو ابن ازہر کا غلام کہا اس نے بھی ٹھیک کہا، اور جس نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غلام کہا اس نے بھی ٹھیک کہا (اس کی وجہ یہ ہے کہ ابن ازہر اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں اس غلام میں شریک تھے)۔
