Arabic (Original)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ كَتَبَ إِلَى عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ مَنْ أَهْدَى هَدْيًا حَرُمَ عَلَيْهِ مَا يَحْرُمُ عَلَى الْحَاجِّ حَتَّى يُنْحَرَ هَدْيُهُ. قَالَتْ عَمْرَةُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ لَيْسَ كَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَا فَتَلْتُ قَلاَئِدَ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَىَّ، ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِيَدَيْهِ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَىْءٌ أَحَلَّهُ اللَّهُ حَتَّى نُحِرَ الْهَدْىُ.
English Translation
It is narrated by Hadrat 'Abdullah bin Abu Bakr bin 'Amr bin Hazm that 'Amra bint 'Abdur-Rahman informed him that Ziyad bin Abu Sufyan wrote to Hadrat Umm al-Mu'minin Hadrat 'Aisha (may Allah be well pleased with her) that Hadrat 'Abdullah bin 'Abbas (may Allah be well pleased with them both) had stated, 'Whoever sends his Hadi (to the Ka'ba), all the things which are impermissible for a (pilgrim) become impermissible for that person till he slaughters it (i.e. till the 10th of Dhul-Hijjah).' 'Amra added, Hadrat ' Aisha (may Allah be well pleased with her) stated, 'It is not like what Hadrat Ibn 'Abbas (may Allah be well pleased with them both) stated: I twisted the garlands of the Hadi of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) with my own hands. Then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) put them round their necks with his own blessed hands, sending them with my father (Hadrat Abu Bakr al-Siddiq, may Allah be well pleased with him); yet nothing permitted by Allah was considered impermissible for the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) till he slaughtered the Hadi.'
Urdu Translation
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم نے خبر دی، انہیں عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ زیاد بن ابی سفیان نے حضرت حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو لکھا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ارشاد فرمایا ہے کہ جس نے ہدی بھیج دی اس پر وہ تمام چیزیں حرام ہو جاتی ہیں جو ایک حاجی پر حرام ہوتی ہیں تاآنکہ اس کی ہدی کی قربانی کر دی جائے۔ عمرہ نے فرمایا کہ اس پر حضرت حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ارشاد فرمایا: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جو فرمایا مسئلہ اس طرح نہیں ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے قلادے اپنے ہاتھوں سے خود بٹے ہیں، پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ان جانوروں کو قلادہ پہنایا اور میرے والد محترم (حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے ساتھ انہیں روانہ فرما دیا لیکن اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کسی بھی ایسی چیز کو اپنے اوپر حرام نہیں فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لیے حلال فرمائی تھی، اور ہدی کی قربانی بھی کر دی گئی۔
