Arabic (Original)
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ قَالَ أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً يَجْهَرُ فِيهَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ تَقْرَءُونَ خَلْفِي فقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّا لَنَفْعَلُ قَالَ لَا تَفْعَلُوا إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ قَالَ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةَ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا الْحَدِيثُ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ فِيهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ الْأَعْرَجِ إِلَّا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ وَأَخْطَأَ فِيهِ وَإِنَّمَا هُوَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ هَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَمَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَكِنْ ذَكَرْنَا حَدِيثَ ابْنِ بُحَيْنَةَ لِيَعْرِفَ مَنْ سَمِعَ ذَلِكَ أَنَّهُ خَطَأٌ
English Translation
Hadrat Ibn Buhaynah (may Allah be well pleased with him) narrated that the Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) prayed a prayer in which he recited aloud. When he finished, he asked: «Are you reciting behind me?» Some of them said: 'We do indeed.' He stated: «Do not do so, for I was saying: Why am I being contested in the Quran?» So the people refrained from reciting when the Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) recited aloud. This hadith - we do not know anyone who said in it from al-Zuhri from al-A'raj except the nephew of al-Zuhri, and he erred in it. Rather it is from al-Zuhri from Ibn Ukaymah. This is how Ibn Uyaynah and Ma'mar narrated it from al-Zuhri from Ibn Ukaymah from Abu Hurayrah. But we mentioned the hadith of Ibn Buhaynah so that whoever hears it knows that it is an error.
Urdu Translation
حضرت ابن بحینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی جس میں آپ نے بلند آواز سے قرأت کی۔ جب آپ فارغ ہوئے تو پوچھا: «کیا تم میرے پیچھے قرأت کرتے ہو؟» ان میں سے بعض نے کہا: ہم یقیناً کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: «ایسا نہ کرو، کیونکہ میں کہہ رہا تھا: قرآن میں مجھ سے کیوں جھگڑا کیا جارہا ہے؟» چنانچہ لوگوں نے قرأت سے رک گئے جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بلند آواز سے قرأت فرماتے۔ یہ حدیث - ہمیں معلوم نہیں کہ اس میں زہری سے اعرج کے واسطے سے سوائے زہری کے بھتیجے کے کسی نے کہا ہو، اور اس نے اس میں غلطی کی۔ بلکہ یہ زہری سے ابن اکیمہ کے واسطے سے ہے۔ یوں ہی ابن عیینہ اور معمر نے زہری سے، انہوں نے ابن اکیمہ سے، انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کیا ہے۔ لیکن ہم نے ابن بحینہ کی حدیث کا ذکر کیا تاکہ جو کوئی سنے وہ جان لے کہ یہ غلطی ہے۔
