Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي بَعْضُ بَنِي أَبِي رَافِعٍ، مَوْلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ طَلَّقَ عَبْدُ يَزِيدَ - أَبُو رُكَانَةَ وَإِخْوَتِهِ - أُمَّ رُكَانَةَ وَنَكَحَ امْرَأَةً مِنْ مُزَيْنَةَ فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ مَا يُغْنِي عَنِّي إِلاَّ كَمَا تُغْنِي هَذِهِ الشَّعْرَةُ . لِشَعْرَةٍ أَخَذَتْهَا مِنْ رَأْسِهَا فَفَرِّقْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَأَخَذَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَمِيَّةٌ فَدَعَا بِرُكَانَةَ وَإِخْوَتِهِ ثُمَّ قَالَ لِجُلَسَائِهِ " أَتَرَوْنَ فُلاَنًا يُشْبِهُ مِنْهُ كَذَا وَكَذَا مِنْ عَبْدِ يَزِيدَ وَفُلاَنًا يُشْبِهُ مِنْهُ - كَذَا وَكَذَا " . قَالُوا نَعَمْ . قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِعَبْدِ يَزِيدَ " طَلِّقْهَا " . فَفَعَلَ ثُمَّ قَالَ " رَاجِعِ امْرَأَتَكَ أُمَّ رُكَانَةَ وَإِخْوَتِهِ " . فَقَالَ إِنِّي طَلَّقْتُهَا ثَلاَثًا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " قَدْ عَلِمْتُ رَاجِعْهَا " . وَتَلاَ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ } . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدِيثُ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رُكَانَةَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَرَدَّهَا إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَصَحُّ لأَنَّ وَلَدَ الرَّجُلِ وَأَهْلَهُ أَعْلَمُ بِهِ أَنَّ رُكَانَةَ إِنَّمَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَجَعَلَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَاحِدَةً .
English Translation
Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with them both) said: Abd Yazid — the father of Rukanah and his brothers — divorced Umm Rukanah and married a woman from the tribe of Muzaynah. She came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and submitted: He is of no use to me, he benefits me no more than this hair — taking a hair from her head — so separate me from him. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was moved by protective zeal. He summoned Rukanah and his brothers, then said to those seated around him: "Do you see that such-and-such feature of so-and-so resembles Abd Yazid, and such-and-such feature of so-and-so resembles him?" They said: Yes. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated to Abd Yazid: "Divorce her." So he did. Then he stated: "Take back your wife, the mother of Rukanah and his brothers." He submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I have already divorced her three times. He stated: "I know. Take her back." And he recited the verse: 'O the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), when you divorce women, divorce them for their prescribed period.' Abu Dawud (upon him be mercy) said: The hadith of Nafi' ibn Ujayr and Abdullah ibn Ali ibn Yazid ibn Rukanah, from his father, from his grandfather, that Rukanah divorced his wife with an irrevocable divorce and the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) returned her to him — this is more authentic, because the man's own children and family know him better. Rukanah had only given his wife an irrevocable divorce, and the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) counted it as one divorce.
Urdu Translation
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: عبد یزید — جو رکانہ اور ان کے بھائیوں کے والد ہیں — نے اُمِّ رکانہ کو طلاق دے دی اور قبیلہ مُزینہ کی ایک عورت سے نکاح کر لیا۔ وہ عورت نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: وہ (شوہر) میرے کسی کام کا نہیں ہے، اتنا ہی (فائدہ ہے) جتنا اس بال کا — یہ کہہ کر اس نے اپنے سر سے ایک بال پکڑ لیا — لہٰذا میرے اور اس کے درمیان جدائی کرا دیجیے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو غیرت آئی، تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے رکانہ اور ان کے بھائیوں کو بلایا، پھر اپنے ہم نشینوں سے ارشاد فرمایا: کیا تم دیکھتے ہو کہ فلاں (بچے کی) فلاں خصوصیت عبد یزید سے ملتی ہے اور فلاں کی فلاں خصوصیت اس سے ملتی ہے؟ سب نے عرض کیا: ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے عبد یزید سے ارشاد فرمایا: اسے طلاق دے دو۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ پھر ارشاد فرمایا: اپنی بیوی اُمِّ رکانہ اور ان کے بھائیوں (کی ماں) سے رجوع کر لو۔ عبد یزید نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اسے تین طلاقیں دے چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے معلوم ہے، رجوع کر لو۔ اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوۡهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: نافع بن عجیر اور عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ کی اپنے والد سے، ان کے دادا سے روایت ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاقِ بتّہ دی تھی تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے لوٹا دیا۔ یہ روایت زیادہ صحیح ہے کیونکہ آدمی کی اولاد اور اہل خاندان اس سے زیادہ واقف ہوتے ہیں۔ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاقِ بتّہ دی تھی تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ایک طلاق قرار دیا۔
