العربية (الأصل)
ناسُفْيَانُ، عَنْعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْسَلَمَةَمِنْ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ , قَالَ:خَاصَمَ رَجُلٌ الزُّبَيْرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ، فَقَالَ: إِنَّمَا قَضَى لَهُ , لأَنَّهُ ابْنُ عَمَّتِهِ، فَنَزَلَتْ: فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا سورة النساء آية 65".
الترجمة الإنجليزية
Salamah, from the descendants of Umm Salamah, narrated: A man brought a lawsuit against al-Zubayr before the Prophet (peace be upon him). The Prophet ruled in favor of al-Zubayr, and the man said: 'He only ruled in his favor because he is his cousin.' So Allah revealed: 'No, by your Lord, they will not believe until they make you judge in all disputes between them and then find within themselves no discomfort from what you have judged and submit in full submission' (al-Nisa: 65).
الترجمة الأردية
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے سلمہ نے روایت کیا: ایک شخص نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے مقدمہ کیا، تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے زبیر کے حق میں فیصلہ فرمایا، اس پر اس شخص نے کہا: آپ نے ان کے حق میں اس لیے فیصلہ کیا ہے کیونکہ وہ آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں، تو یہ آیت نازل ہوئی:﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 660]
