العربية (الأصل)
نا نا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَحْصُورًا مَعَعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَفِي الدَّارِ، فَرُمِيَ رَجُلٌ مِنَّا فَقُتِلَ، فَقُلْتُ لِعُثْمَانَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! أَمَا طَابَ الضِّرَابُ؟ قَتَلُوا رَجُلا مِنَّا، فَقَالَ:"عَزَمْتُ عَلَيْكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِلا طَرَحْتَ سَيْفَكَ، فَإِنَّمَا تُرَادُ نَفْسِي وَسَأَقِي الْمُؤْمِنِينَ الْيَوْمَ بِنَفْسِي". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَرَمَيْتُ بِسَيْفٍ فَمَا أَدْرِي أَيْنَ هُوَ حَتَّى السَّاعَةِ.
الترجمة الإنجليزية
Al-Hasan al-Basri (may Allah have mercy on him) said: "'Umar was the most vigilant of people over his governors."
الترجمة الأردية
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:”میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ گھر میں محصور تھا۔ ہمارے ایک ساتھی کو قتل کر دیا گیا۔ میں نے کہا: یا امیرالمومنین! اب لڑائی کا وقت ہے۔“آپ نے فرمایا:”اے ابوہریرہ! میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ اپنی تلوار پھینک دو۔ میرا خون محفوظ رکھنا ہے۔“چنانچہ میں نے تلوار پھینک دی اور آج تک نہیں جانتا کہاں گئی۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 4112]
